Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص عربی زبان میں تقریر کر رہا ہے ۔ عین اسی وقت اس کی تقریر انگریزی زبان میں منتقل کی جا رہی ہے۔ مثلاً ایک مقرر اپنی تقریر کے دوران ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : Therefore I propose لذالك انی اقترح ، عین اسی وقت مترجم کہتا ہے اسی طرح مثلاً ایک شخص کی تقریر کے دوران دوسرا شخص مداخلت کرتے ہوئے کہتا ہے : عین اسی وقت مترجم کہتا ہے : Point of order نقطہ نظام ۔ بظاہر یہ ایک انسانی واقعہ ہے مگر جیب میرے سامنے یہ واقعہ گزرا تو وہ مجھے ایک خدائی کرشمہ معلوم ہونے لگا۔ میں نے سوچا کہ دو الگ الگ ذہنوں کے درمیان ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ میں انتہائی کامل مطابقت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ دونوں شخصیتوں کا خالق (بالفاظ دیگر منصوبہ ساز) ایک ہو۔ اور دونوں کا منصوبہ ساز ایک ہستی کو مانتے ہی یہ ماننا بھی لازم ہو جاتا ہے کہ انسان کا خالق ”شعور “ ہے نہ کہ بے روح مادی اسباب کا اندھا تعامل۔ اسی طرح بڑی کانفرنسوں میں یہ منظر عام ہے کہ ٹیلی وژن کے آدمی مشینیں لئے ہوتے موجود ہیں اور لوگوں کی آوازیں اور ان کی حرکات ریکارڈ کر رہے ہیں ۔ ۹ دسمبر کی رات کو میٹنگ چل رہی تھی۔ حسب معمول دو آدمی اپنی مشینوں کے ساتھ اپنی کارگزاری میں مصروف تھے۔ میں نے اس منظر کو دیکھا تو اچانک وہ میرے ذہن میں اُس واقعہ میں مبدل ہو گیا جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : اذ یتلقى المتلقيان عن اليمين وعن الشمال قعيد (ق ، ۱۷) ایک منٹ کے لئے مجھے ایسا لگا جیسے واقعہ ہمارے دونوں طرف فرشتے کھڑے ہوئے ہیں اور نہایت صحت کے ساتھ ہمارے قول و فعل کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ ایک بزرگ (شیخ راشد فرحان) نے کہا تھا کہ ہمیں سیاست سے الگ رہ کر صرف دعوت کے کام پر متکعر رہنا چاہئے ۔ اس پر ایک نوجوان نے پر جوش طور پر کہا کہ اسلام صرف مذہب نہیں، اسلام سیاست بھی ہے۔ اس لئے ہم اپنے پروگراموں سے سیاست کو الگ نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں دکتور اسکندر نے کہا : یہ صحیح ہے کہ اسلام دین اور سیاست دونوں ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام حکمت بھی ہے۔ اور حکمت کا تقاضا ہے کہ اس وقت ہم سیاسی مسائل سے الگ رہیں۔ ورنہ کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ کل کو لینے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page