افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 387
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آپ ہی کے افکار کا حوالہ دیتے ہیں ، کیوں کہ وہ سائنٹفک انداز میں ہوتے ہیں۔ ان کو میں نے الرساله انگریزی (نومبر، دسمبر، ۱۹۸۰) ایک ایک عدد دیا۔ جناب عبدالحمید عبدالوہاب (ہائی کورٹ) کا خط مجھے دہلی میں ملا تھا، انھوں نے دو کتابوں کی فرمائش کی تھی۔ یہ کتابیں میں اپنے ساتھ لایا تھا اور یہاں ان کے حوالہ کر دیا۔ یہ کتابیں تھیں: خاتونِ اسلام اور گارڈ ادراٹرز۔ ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ وہ کناڈا ہی میں پیدا ہوئے، ان کی مادری زبان انگلش ہے۔ انھوں نے اعلیٰ مرحلہ تک کناڈا ہی میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کو میں نے انگریزی الرساله دیکھنے کے لئے دیا۔ انھوں نے اسی دن سب پڑھ ڈالا۔ انھوں نے خاص طور پر "چھوٹے چھوٹے با معنی مضامین" کو پسند کیا۔ میں نے الرسالہ کی زبان کے بارہ میں ان کی رائے پوچھی۔ انھوں نے کہا: The articles were not written as translations from Urdu or Arabic into English, but as from English to English. Haroon Salamat, P.O. Box 66 Station U, Toronto, ONT, Canada M8Z ITO ۷ دسمبر ۱۹۸۰ کی شام کا کھانا ایک اور جزیرہ پر رکھا گیا تھا۔ اس کے یہاں کی زبان کو رمبا گاؤں (Kurumba village) کہا جاتا ہے۔ کانفرنس کے تمام شرکاء بڑی موٹر بوٹ کے ذریعہ مالے سے کور ہبالے جاتے گئے۔ اس جزیرہ پر سیاحوں کے لئے بہت بڑا ہوٹل بنایا گیا ہے۔ اسی ہوٹل میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جزیرہ مالے سے جزیرہ کور ہبالے تک ۲۰ منٹ کا راستہ ہے۔ اس وقت سمندر میں کسی قدر تموج تھا، اس لئے موٹر بوٹ معمول سے زیادہ ہلنے لگی۔ اس قسم کا موج مہلک نہیں، تاہم وہ انسان کے عجز کے مقابلہ میں سمندر کی طاقت کا تجربہ کرا تا ہے۔ میں نے کہا کہ خدایا، جس طرح آپ اتھاہ سمندر میں غرقابی سے بچاتے ہوئے میرا سفر طے کرا رہے ہیں، اسی طرح معاندین کی سازشوں سے محفوظ رکھ کر اس مشن کو جاری رکھے، جس کے لئے اٹھنے کی آپ نے اس عاجز اور حقیر بندے کو توفیق عطا فرمائی ہے۔ ایک روز کھانے کی میز پر میرے سامنے نئے حلیہ کے ایک آدمی تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ جاپانی ہیں۔ ان کا نام نسو گو کٹ کور ہے۔ مالدیپ میں آجکل جاپان کی امداد کے تحت ٹیلیفون لگائے جا رہے ہیں ، اس میں وہ بطور کنسلٹنٹ یہاں آئے ہیں۔ وہ ٹوکیو کے مضافات میں ۷ جنوری ۱۹۳۰ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader