افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدا ہوتے ۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے وقت مڈل اسکول کے طالب علم تھے۔ ان سے انگریزی میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ جاپانیوں کے بارہ میں مجھے سب سے زیادہ عجیب چیز ان کی تبدیلی کی صلاحیت معلوم ہوتی ہے۔ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ دوسری جنگ عظیم تک وہ بالکل جنگ جو قوم تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر اچانک وہ پرامن قوم بن کر تعلیم اور سائنس کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ جاپانیوں کی اس صلاحیت کا سرچشمہ کیا ہے۔ انھوں نے اس کا سبب جاپانی جغرافیہ کو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان میں سال میں چار موسم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں بار بار اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے۔ جاپان میں کثرت سے زلزلے اور طوفان آتے ہیں اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ہر وقت نئی صورت سے مطابقت کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ جاپانی لوگ نئی باتوں کو جاننے کے لئے بے حد تجسس رہتے ہیں: Japanese are very curious to know new things, new ideas جاپانی قوم کی اسی صلاحیت کا نتیجہ تھا کہ جنگِ عظیم کی بربادی کے بعد ان کے اندر شدت سے نئی سوچ ابھری۔ انھوں نے سابقہ روش کو ترک کرکے نئے حالات کے مطابق دوسری روش اختیار کر لی۔ میں نے سوچا کہ یہ فرق بھی کتنا عجیب ہے۔ ایک قوم کے لئے اس کے ”زلزلے“ ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں، اور دوسری قوم کے ”زلزلے“ اس کو صرف فریاد و ماتم کی غذا دے رہے ہیں۔ مسٹر شوگو کٹا کو ر اسے دوسری بار 10 دسمبر کو ملاقات ہوئی تو میں نے خدا اور مذہب کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس میں ان کا حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا: Shogo Katakura, 33, Udagawa-Cho, Shibuya-Ku Tokyo 150, Japan. Phone 81-3-4622221 وہ پیدائشی طور پر بدھسٹ ہیں۔ مگر خدا اور مذہب کے بارہ میں زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ زندگی بعدِ موت کے بارہ میں مشتبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ جاپان کی جدیڈ سل کے اندر میٹریلزم سے بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے ، وہ کہہ رہے ہیں ہمارا کلچر تو صرف مرچنٹ کلچر ہے، زندگی کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دوسری جنگ کے بعد جاپان میں زندگی بہت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader