Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 395

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کو لے جاکر ٹیکسی پر بیٹھا و اور ٹیکسی کا نمبر نوٹ کرلو۔ اس میں اتنا اور اضافہ کرلیجئے کہ مذکورہ افسر نے نہ میرا پاسپورٹ مانگا اور نہ میرا ٹکٹ دیکھا۔ اس نے صرف میرے زبانی بیان پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پوری کارروائی کی۔ میں نے سوچا کہ جس ملک میں اتنے شریف انسان بستے ہوں، وہاں چند استثنائی واقعات کو لے کر سارے ملک میں ہند و مسلم مسئلہ کھڑا کرنا کتنا بڑا جرم ہے ۔ اور افسوس کہ اس ملک کی مسلم قیادت اسی مجرمانہ کام میں پچھلے پچاس برس سے مبتلا ہے۔ اس کو نہ قرآن کی آیتیں اس بے معنی کام سے روکنے والی ثابت ہو رہی ہیں اور نہ مسلمانوں کے حق میں اس پالیسی کے اندوہناک نتائج۔ ہوٹل لوسیا کائنٹی کا کمرہ نمبر ۳۱۶ ہے۔ میں رات کے وقت سویا ہوا ہوں۔ نیند کھلتی ہے تو میں وقت جاننا چاہتا ہوں۔ اپنی گھڑی کے بارہ میں مجھے کچھ شبہ ہوتا ہے۔ میں ٹیلیفون کا ریسیور اٹھاتا ہوں۔ اس کے بعد میرے اور ریسپشن کے آدمی کے درمیان مختصر گفتگو ہوتی ہے جو حسب ذیل ہے: Good Morning, Sir Good Morning, Time please. Three, thirty Thank you یہ ایک سادہ سی بات ہے جو ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر جب ۱۳ دسمبر کی رات کو اس اجنبی جگہ پر میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا تو اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کہ وہ اس آیت کی عملی تفسیر ہو: و اذا سألـك عـبـادي عـنـي فـانـي قـريـب اجـيـب دعـوة الـداع اذ ادعان فليستجيبوا لى وليؤمنوا بى لعلهم يرشدون ( البقرة ۱۸۶) اس دنیا کے محسوس واقعات غیر محسوس حقیقتوں کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ مگر اس کو وہی شخص جان سکتا ہے جو اس پر کان لگائے اور خالی الذہن ہو کر اس کو سننے کے لئے تیار ہو۔ لوسیا ہوٹل میں گیڈ نینس (Gideons) کی بائبل رکھی ہوئی تھی۔ یہ بائبل تمام دنیا کے ہوٹلوں میں مفت رکھی جاتی ہے ۔ بائبل کے اس نسخہ میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی چھپا ہوا تھا کہ اگر آپ اس علاقہ میں گیڈ نینس سے ربط قائم کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم مقامی ٹیلیفون ڈائرکٹری سے معلوم کیجئے!

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page