افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 394
By Maulana Wahiduddin Khan
مقدر ہے جن کو اللہ اپنی رحمت خاص سے آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کر دے۔ اس سفر کا ایک عجیب واقعہ وہ ہے جو واپسی میں تریوند رم انٹرنیشنل ایر پورٹ پر گزرا۔ دہلی کا جہاز لینے کے لئے دوبارہ مجھے یہاں اترنا تھا۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر اندر داخل ہوا تو کسٹم کاؤنٹر ملنے تھا جہاں لوگوں کے کیبس اور بنڈل کھول کھول کر دیکھے جا رہے تھے۔ چونکہ میرے پاس کوئی کسٹم والی چیز نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں سیدھا گیٹ پر چلا جاؤں۔ مگر پولیس کے آدمی نے مجھے روک دیا اور کہا کہ پیچھے جا کر لائن میں کھڑے ہو جائیے۔ یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ میں سب سے پیچھے تھا اور لمبی لائن میں مجھے گھنٹوں تک کھڑا رہ کر انتظار کرنا پڑتا۔ اتنے میں کسٹم کے ایک آدمی نے شاید میرا ”مولویانہ “ حلیہ دیکھ کر خود ہی مجھ کو بلا لیا۔ اس نے پوچھا کہاں سے آرہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مالدیپ سے، کس لئے گئے تھے۔ میں نے دوبارہ کہا اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے ۔ اس نے چک کئے بغیر کہا کہ جائیے۔ دوسرا شدید تر مرحلہ یہ تھا کہ میری دہلی کی فلائٹ اگلے دن تھی۔ چنانچہ مجھے تقریباً ۴۲ گھنٹے تریوندرم میں رکنا تھا، راستہ میں میں نے بعض مسافروں سے پوچھا کہ کیا یہاں انڈین ایئر لائنز کی طرف سے ٹرانزٹ مسنجر کو ٹھہرانے کا انتظام ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں باہر نکل کر لاؤنج میں ایک کری پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ رات کے وقت اس نامعلوم جگہ پر کہاں جاؤں۔ اتنے میں ایک پتلون پوش اس ادھیڑ عمر کے آدمی آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک ٹرانزٹ مسنجر ہوں... ابھی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے کہا: اپنا بیگ اٹھا لیجئے اور میرے ساتھ آئے۔ وہ مجھ کو ایر پورٹ کے ایک افسر کے پاس لے گئے اور اس کو میرا معاملہ بتا لیا: K.V. Thimothy, Station Duty Officer Air Customs, International Airport, Trivandrum. مذکورہ افسر نے کہا کہ یہ میری ڈیوٹی تو نہیں ہے۔ مگر میں ہوٹل لوسیا کا نٹی نینٹل (Luciya) (Continental کوئی ٹیلی فون کر کے پتہ کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے فوراً ہی ہوٹل کے نیچے سے ٹیلی فون پر بات کی اور پھر مجھ سے کہا کہ آپ وہاں چلے جائیں۔ آپ کا کمرہ ، کھانا ، ٹیکسی کا کرایہ سب انڈین ایئر لائنز کے ذمہ ہوگا۔ مزید انھوں نے پولیس کے ایک آدمی کو میرے ساتھ کر دیا اور اس سے کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader