افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 397
By Maulana Wahiduddin Khan
تریوندرم سے واپسی میں لیز پورٹ پر اٹلی کے ایک سیاح سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام اسٹیفا نو گرا فینی (Stefano Garaffini) بتایا۔ وہ اٹلی کے شہر فرنز (Firenze) کے رہنے والے ہیں۔ چھٹی میں اپنی بیوی کے ساتھ سیاحت کے لئے نکلے ہیں۔ ابتدائی تعارف کے بعد میں ان سے اس طرح کے سوالات کرتا رہا: کیا آپ خدا کو مانتے ہیں ، کیا آپ مذہب میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ ان سے گفتگو کے بعد خیال آیا کہ ہمارے پاس ایک چھپا ہوا دو ور قہ ہونا چاہئے۔ جو اس طرح کے لوگوں کو فوری مطالعہ کے لئے دیا جا سکے۔ اس میں مختصر اور واضح انداز میں اسلام کا تعارف کیا گیا ہو۔ انشا اللہ مرکز کی طرف سے اس قسم کا دو ور قہ چھاپنے کی کوشش کی جائے گی۔ ۱۳ دسمبر کو تریوندرم ایئر پورٹ پر تین ہندو نو جوانوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان کے ”لیڈر“ سنجیو بھار گو تھے جو نئی دہلی میں انڈین ایئر لائنز کالونی میں رہتے ہیں ۔ ان سے بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر ہندوؤں کی نئی نسل کے نمائندہ تھے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ میرے نزدیک یہ تھا کہ ہندو نو جوانوں کا بگاڑ محض وقتی ہے نہ کہ دائمی اور ابدی۔ سنجیو بھار گو نے کہا کہ ایک سادہ مثال لیجئے ۔ ایک شخص بس میں سفر کر رہا ہے۔ اس کے پاس ایک روپیہ کا پھٹا ہوا نوٹ ہے۔ اگر وہ اس نوٹ کو فولڈ کر کے بس کڈکٹر کو دے تو وہ اس کو لے لے گا۔ اور اگر وہ اسی نوٹ کو دکھا کر دے تو کنڈکٹر کبھی بھی نہیں لے گا اور اس کو بس سے اتار دے گا۔ یہ تجربات ہیں جو جدید نسل کو بگاڑ رہے ہیں ۔ سنجیو بھار گو نے کہا کہ میری ایج کے ہر آدمی کا پنچر یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط کو غلط سمجھتا ہے اور اس سے لڑنا چاہتا ہے۔ مگر جیسے جیسے اس کا تجربہ بڑھتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ غلط کو غلط بتانے میں وہ خود غلط ہو رہا ہے تو اب اس میں ایک تبدیلی آنا شروع ہوتی ہے۔ نچلی سطح پر درست ہونے کے با وجود اوپر کی سطح پر وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔ ان کی تقسیم کے مطابق ، جدید بھارتی نوجوان کے تین دور ہیں ۔ پنچر ، فرسٹریشن ، چینج ۔ جدید ہندوستانی نوجوان کی جارحیت جس کے خلاف ہمارے لیڈر فریاد کرتے رہتے ہیں ، وہ محض اوپر کی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ اپنے اندر اب بھی وہ وہی فطرت لئے ہوتے ہے جو خدا نے ہر ایک کے اندر پیدا کی ہے۔ اگر ہم حکمت اور اخلاق کے ذریعہ اس کی اندرونی فطرت کو جگا سکیں تو یہاں بھی وہی واقعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader