افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 398
By Maulana Wahiduddin Khan
ظہور میں آئے گا جس کو قرآن نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے ... ... فاذا الذی بینگ و بینہ عداوة کانہ ولی حمیم (حم السجدة ۳۳۵) واپسی کے بعد کانفرنس کے شرکاء میں سے ایک صاحب سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ یہ ڈاکٹر عبدالحکیم طبیبی ہیں۔ وہ افغانی ہیں اور آجکل سوئٹزر لینڈ میں رہتے ہیں۔ وہ سید جمال الدین افغانی سے بہت متاثر ہیں اور ان کے تاریخی ماہنامہ العروة الوثقی کو اسی نام سے عربی اور انگریزی میں جنیوا سے نکال رہے ہیں۔ کانفرنس کے بعد وہ ایک ضرورت کے تحت دہلی آئے اور ہمارے مرکز اور ہمارے کام کو بھی یہاں آکر دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ یہاں جو کام کر رہے ہیں وہ اتنا اہم ہے کہ اس کے مقابلہ میں کسی "انٹر نیشنل کانفرنس" میں شرکت کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اس قسم کی کانفرنسوں میں شرکت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض اوقات وہ مجھے اوقات کا کم تر مصرف معلوم ہوتی ہیں ۔ تاہم ایک فائدہ ہے جس کی وجہ سے میں ان کانفرنسوں میں جاتا ہوں ۔ اور وہ تجربہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ممالک کا سفر اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے جو تجربات حاصل ہوتے ہیں وہ دفتر میں یا لائبریری میں بیٹھ کر حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر میں بیرونی ممالک کا سفر کرتا ہوں۔ میرے یہ تجربات "سفر نامہ" کی صورت میں الرسالہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مگر وہ اردو زبان میں ہوتے ہیں، اس لئے آپ جیسے لوگ ان کو پڑھ نہیں سکتے۔ تاہم اب انگریزی الرسالہ میں بھی سفر ناموں کا خلاصہ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader