افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 400
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوائی اڈہ (پالم ایئر پورٹ) پر پہنچا دیا یہاں معلوم ہوا کہ کابل کا جہاز اگلے ہوائی اڈہ اندر ایر پورٹ سے جائے گا۔ چنانچہ پالم سے واپس ہو کر دوبارہ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ بچوں کو ہم گھر سے کسی قدر پہلے روانہ ہو گئے تھے اس لئے اس تاخیر سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اسی قسم کے اتفاقات, جس جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وقت سے پہلے روانہ ہو، تا کہ اگر راستہ میں تاخیر کا کوئی اتفاقی سبب پیش آجاۓ تب بھی وقت پر اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔ اس تجربہ کے بعد مجھے حضرت ابو ہریرہ کی وہ حدیث یاد آئی جس کو ترندی نے روایت کیا ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَم: مَنْ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی کو خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اندیشہ ہوتا ہے وہ رات سے اپنا سفر شروع أَلا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ غَالِيَةٌ أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ کرتا ہے ، اور جو رات سے اپنا سفر شروع کرتا ہے وہی اللهِ الْجَنَّةُ (دن میں اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔ بس لو کہ اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے ، سن لو اللہ کا سودا جنت ہے۔ دنیا کے مقصد کو پانا ہو یا آخرت کے مقصد کو پانا، دونوں ہی میں خصوصی اہتمام کرنا ضروری ہے خصوصی اہتمام کے بغیر نہ دنیا کا مقصد صحیح طور پر حاصل کیا جا سکتا اور نہ آخرت کا۔ جہاز کو مقررہ وقت کے اعتبار سے ساڑھے سات بجے روانہ ہونا تھا۔ تمام مسافر جہاز میں بیٹھے ہوئے اُڑان کا انتظار کر رہے تھے کہ آدھ گھنٹہ بعد پائلٹ نے ہوائی جہاز کے ایڈریس سسٹم پر اعلان کیا کہ جہاز کے ایک پہیہ میں پریشر کم پایا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بدلا جا رہا ہے۔ آپ اس دیری کے لئے ہمیں معاف کر دیں گے۔ دیری بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ جہاز نہ روانہ ہوا تو گھڑی میں ساڑھے دس بج رہے تھے۔ یعنی اصل مقررہ وقت سے دو گھنٹہ بعد __ دہلی سے کابل تک جہاز کو پہنچنے کے لئے ڈھائی گھنٹہ درکار تھا۔ مگر دہلی میں پہیہ کی اصلاح میں دو گھنٹے لگ گئے۔ جہاز کے ساتھ یہ جو حادثہ پیش آیا ، اس کا " جھٹکا " جہاز سے زیادہ جہاز کے مسافروں کو برداشت کرنا پڑا۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ چلتی ہوئی سواری پر مسافر کی حیثیت شاک ابزار ہر دجھٹکا سہنے والے کی ہوتی ہے: Passengers are shock absorbers on moving vehicles. ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوئے تو ایسا معلوم ہوا گو یا ہم ایک اور ملک میں پہنچ گئے ہیں۔ یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader