افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 401
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر چیز کا معیار مختلف تھا۔ ایئر پورٹ کے باہر اگر ”دیسی ہندوستان“ کا منظر تھا تو ایئر پورٹ کے اندر ”بدیسی ہندوستان“ کا۔ ہر ملک خواہ وہ کتنا ہی غریب ہو، یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے ایئر پورٹ کو بین الاقوامی معیار پر بنائے ۔ ”ایئر پورٹ“ گویا ہر ملک کا ایک تہذیبی جزیرہ ہے۔ ایک سیاح تھوڑے دنوں کے لئے ہندوستان آیا۔ اس نے ان مقامات کا سفر کیا جہاں ہوائی جہاز اس کو لے جا سکتا تھا۔ اس نے لال قلعہ اور تاج محل جیسی قابل دید چیزوں کا مشاہدہ کیا اور پھر اپنے ملک کو واپس چلا گیا۔ اس سیاح کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس نے ہندوستان کے تہذیبی جزیرہ کو دیکھا، وہ وسیع تر ہندوستان کو نہ دیکھ سکا۔ ایسی حالت میں عجب نہیں کہ وہ واپس جاکر لکھے : ہندوستان کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ وہ ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہیں ۔ جب وہ زندہ ہوتے ہیں تو وہ لال قلعہ میں رہتے ہیں، اور جب مرتے ہیں تو تاج محل میں دفن ہوتے ہیں ـ مصنوعی مشاہدہ اور حقیقی مشاہدہ میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ ہوائی جہاز جب بلند ہو کر فضا میں اڑتا ہے، اس وقت آپ نیچے زمین کی طرف دیکھیں تو زمین کی سطح پر ہر چیز معمولی دکھائی دیتی ہے ــــــــــــــ مکانات چھوٹے چھوٹے گھرو نْدوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ سڑکیں پھیلی ہوئی لکیر کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ سمندروں میں تیرتے ہوئے جہاز دیا سلائی کی ڈبیا معلوم ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اس طرح دکھائی دیتے ہیں جیسے کہ وہ صرف ٹیلے ہوں۔ اونچے کھڑے ہوئے درخت پودے کی مانند نظر آتے ہیں۔ وغیرہ۔ میں نے اس منظر کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ ہوائی جہاز ”عالم سفلی“ سے اوپر اٹھ کر ”عالم علوی “ میں سفر کر رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ مادی مشاہدہ ایک روحانی حقیقت کی تمثیل ہے۔ مومن کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ اس کا جسم بظاہر عالم سفلی میں ہو، مگر اس کی روح یا اس کا فکری وجود عالم علوی میں سفر کر رہا ہو۔ موجودہ دنیا میں اس طرح اپنے آپ کو بلند کرنا در حقیقت جہات دنیا سے گزر کر حیات آخرت کا تجربہ کرنا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ تجربہ جسمیاتی طور پر ہوتا ہے۔ موت کے بعد کی زندگی میں یہ تجربہ واقعی طور پر ہوگا۔ جہاز میں آج کے اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات مطالعہ کے لئے موجود تھے۔ اخبار اٹھایا تو ہر ایک کی پہلی سرخی ایک سخت ہوائی حادثہ کے بارہ میں تھی۔ نو بھارت ٹائمز (۳۰ اکتوبر) کی پہلی سرخی یہ تھی :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader