Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 404

By Maulana Wahiduddin Khan

اور باقی برائی جوں کی توں قائم رہتی ہے۔“ ایک مسلمان اگر میلاد النبی کے جلسوں پر تبصرہ کرے تو وہ بھی اسی قسم کے الفاظ لکھے گا کہ میلاد النبی کے جشن میں رسول اللہ کے بارہ میں پرجوش تقریریں ہوتی ہیں مگر رسول اللہ کی سنت پر عمل نہیں کیا جاتا۔ میرے نزدیک یہ دونوں تبصرے بالکل بے فائدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے دسہرہ کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی اعتبار سے میلاد النبی کے جشن اور جلوسوں کی کوئی اصل نہیں۔ اس لئے دونوں مبصروں کو سرے سے ان رسموں ہی کو لغو قرار دینا چاہئے۔ ہندو مصلح کو یہ کہنا چاہئے کہ دسہرہ کا میلا ایک تاریخی بدعت ہے، اس لئے اس کو ختم کر دو۔ اسی طرح مسلمان مصلح کو یہ کہنا چاہئے کہ ”جشن میلاد النبی“ ایک دینی بدعت ہے، اس لئے اس کو بند کرو۔ مگر ایسا کہنے کی ہمت نہ ہندو مصلح میں ہے اور نہ مسلمان مصلح میں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی زبان بولتے ہی وہ اپنی قوم میں نکو بن جائیں گے۔ مگر اصلاح کا کام ہمیشہ نکو بننے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو نکو بننے کا حوصلہ نہ ہو، انھیں مصلح کا کریڈٹ لینے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہئے۔ جہاز میں ایک عرب مسافر سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ ایک عربی اخبار الوطن (۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸) تھا۔ یہ کویت سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک چھوٹا سا مضمون چوکھٹے میں تھا۔ یہ سوال کے انداز میں تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے: هل تعرفون ما العلاقة بين صمت الانظمة العربية على تقسيم لبنان والمثل العربي القائل بأن ”الصمت علامة الرضا“۔ یعنی کیا آپ جانتے ہیں کہ لبنان کی تقسیم پر عرب حکومتوں کی خاموشی اور اس عربی مثل میں کیا نسبت ہے کہ خاموشی رضا مندی کی علامت ہے۔ الوطن العربی کی ایک اور خبر میں بتایا گیا تھا کہ عرب دنیا کی آبادی، تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ۱۵۶ ملین ہے (156 مليون عدد سكان العالم العربی)۔ یہاں بھی میرا خیال ہے کہ مذکورہ سوال ۱۵۶ ملین عربوں سے کرنے کے بجائے لبنان کے ان مسلمانوں سے کرنا چاہئے جنھوں نے انتہائی نادان سیاست اختیار کر کے وہ صورت حال پیدا کی جو بالآخر تقسیم تک جا پہنچی۔ یہ تقسیم اگر مکمل ہو گئی تو تقسیم کے بعد اس کا جو حصہ مسلمانوں کو ملے گا وہ گویا عرب دنیا کا ”بنگلہ دیش“ ہوگا۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۸ء کی صبح کو جب انڈین ایئرلائنسز کی فلائٹ ۴۵۱ مجھے لئے ہوئے کابل کی طرف جا رہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page