افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 403
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس کو لاشعور کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیقات بتاتی ہیں کہ انسان جب رات کو سوتا ہے تو اس کا ذہن خود کار مشین کی طرح ایک خاموش کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ یاد رکھنے کے قابل باتوں کو تو زندہ شعور کے خانہ میں باقی رکھتا ہے۔ اور دوسری تمام باتوں کو دماغ کے پچھلے خانہ (لا شعور) میں ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے ساتھ دن میں ایک سخت واقعہ پیش آتا ہے، شام کو وہ اس حال میں سوتا ہے کہ وہ اعصابی تناؤ میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر صبح کو جب وہ اٹھتا ہے تو دوبارہ وہ تر و تازہ ہو جاتا ہے۔ اگر انسانی ذہن عام مشینی کمپیوٹر کی مانند ہوتا اور تمام پیش آنے والی باتوں کو یکساں طور پر اپنی یادوں میں لئے رہتا تو انسان کے لئے زندگی گزارنا ہی ناممکن ہو جاتا۔ اخبار میں ایک عبرت انگیز خبر پڑھی جو نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ اس کے مطابق ٫۱ اگست ۱۹۸۸ کا ہوائی حادثہ جس میں جنرل ضیا الحق، امریکی سفیر اور دوسرے بہت سے "وی آئی پی" ہلاک ہوئے، اس کے سبب کے بارہ میں امریکہ اور پاکستان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان صہر ہے کہ یہ تخریب کاری (Sabotage) کا نتیجہ تھا۔ جب کہ امریکی ماہرین جنھوں نے حادثہ کے تمام پہلوؤں کا نہایت دیدہ ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حادثہ کا سبب جہاز میں مشینی خرابی۔ (Mechanical failure) تھا۔ امریکہ نے واقعہ کو صرف ٹیکنکل حقیقت کے اعتبار سے دیکھا۔ اس کو واقعہ کا صرف وہی سبب دکھائی دیا جو فنی الواقع تھا۔ جب کہ پاکستان کو اس حادثہ سے سیاسی اور قومی فائدہ اٹھانا تھا۔ اس لئے اس نے ماہرین کی رپورٹ کی اشاعت کو "عوامی مفاد" کے خلاف قرار دے کر اعلان کر دیا کہ اس کا سبب تخریب کاری تھا۔ امریکی حکام نے تاریخ نگاری کے اصول کو اختیار کیا، پاکستانی حکام نے تاریخ سازی کے طریقہ کو، اور دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز پائی جاتی ہے وہ یہی تاریخ سازی ہے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ کے مسلمان لکھنے والے تو شاید تاریخ سازی کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔ ملاپ (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸) میں دسہرہ کی مناسبت سے اداریہ تھا: من کار اون کب چلے گا۔ اس میں ایڈیٹر نے لکھا تھا کہ آج دسہرہ کے دن سارا دیش خوشیاں منا رہا ہے۔ کیوں کہ آج کے دن بھگوان رام نے راون روپی برائیوں کو ختم کرکے فتح حاصل کی تھی۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ صرف پتلا ہی جلایا جاتا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader