Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 406

By Maulana Wahiduddin Khan

چکر لگا کر دوبارہ نیچے آیا۔ جہاز میں بیک وقت دونوں صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ اوپر جا کر دوبارہ نیچے آ سکتا ہے، اسی طرح وہ نیچے آ کر دوبارہ اوپر کی طرف اٹھ سکتا ہے۔ یہی دو گونہ صفتیں زندگی کے وسیع تر سفر کے لئے بھی درکار ہیں۔ جو لوگ صرف ایک رخ پر بڑھنا جانتے ہوں ۔ وہ اوپر جا کر نیچے نہ اتریں، یا نیچے آ کر دوبارہ اوپر نہ جا سکیں، ایسے لوگ کبھی کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔ ہوائی اڈہ پر اترے تو نظر آیا کہ اوپر ہر طرف فوجی ہیلی کا پٹر اڑ رہے ہیں۔ یہ اہتمام سیکورٹی کی غرض سے کیا گیا تھا۔ میں نے فضا میں دیکھا تو اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹر بار بار کوئی چیز گرارہے تھے جو باہر آتے ہی آگ کے گولے کی طرح جل اٹھتی تھی۔ ایک منٹ کے بعد وہ سفید دھویں کی لکیر کی طرح فضا میں پھیل جاتی تھی۔ یہ واقعہ نصف میں بار بار ہورہا تھا۔ ایک افغانی سے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ "پہاڑوں" کی طرف سے لوگ امریکہ کے بنے ہوئے اینٹی ایئر کرافٹ مزائل مارتے ہیں جن کو اسٹنگر (Stinger) کہا جاتا ہے۔ ان اسٹنگروں میں یہ صفت ہے کہ وہ گرم چیز کی طرف تیزی سے جاتے ہیں جس رخ پر انہیں پھینکا گیا ہے، وہاں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہے۔ چنانچہ وہ انجن کا پچھا کر کے اس کو مارتے ہیں۔ شروع میں اسٹنگر ہوائی جہازوں کو مار گرانے کا بالکل یقینی ذریعہ تھے۔ مگر اس کے بعد روسیوں نے ایک چیز ایجاد کر کے اسٹنگر کو بڑی حد تک بے اثر بنا دیا ہے۔ اس ایجاد کا نام فش (Fish) ہے۔ فش کوئی کیمیکل ہے۔ جب اس کو ہیلی کاپٹر کے باہر پھینکا جاتا ہے تو وہ بھڑک کر جل اٹھتا ہے۔ یہ جلنے والا مادہ جہاز کے انجن سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اسٹنگر کو اس کی طرف پھینکا جاتا ہے تو وہ جہاز کے انجن کی طرف جلنے کے بجائے جلتے ہوئے گرم مادہ کی طرف جا کر اس سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس طرح ہوائی جہاز بچ کر آگے نکل جاتا ہے۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے شخص کوٹ نہ بنانا چاہتا ہے۔ زیر نشانہ آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ نشانہ کو بے نشانہ کر دے۔ وہ حکیمانہ ند پیر کے ذریعہ اپنے آپ کو نشانہ بننے سے بچا لے ۔ فریاد ثانی کے خلاف شور وغل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آج کل ایک جغرافی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کو جنوبی ایشیا (South Asia) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page