Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 407

By Maulana Wahiduddin Khan

اس علاقہ میں ہندوستان ، پاکستان ، سری لنکا ، عرب اور افغانستان شمار کئے جاتے ہیں ۔ افغانستان سے میرا تعلق ، ایک اعتبار سے خاندانی ہے۔ میرے مورث اعلی حسن خاں مرحوم ایک افغانی پٹھان تھے ۔ جو غالباً ۱۵ ویں صدی عیسوی میں اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان چلے آئے۔ اس زمانہ میں افغانستان کے اہم جو افراد اکثر ہندوستان کا رخ کیا کرتے تھے۔ حسن خاں مرحوم چترال کے رہنے والے تھے۔ چترال کا علاقہ پہلی صدی قبل مسیح میں چینیوں نے فتح کیا۔ ۱۱ ویں صدی عیسوی میں یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ علاقہ پہلے افغانستان کا حصہ تھا۔ ۱۸۸۹ء میں وہ انگریزوں کی تحتی میں آیا۔ ۱۹۴۷ء سے وہ پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک افغانی جرنلسٹ مسٹر سرور سے میں نے کہا کہ میرے افغانی مورث اعلی افغانستان کو چھوڑ کر جونپور ( ہندوستان) گئے ۔ اس وقت وہاں ایک افغان ( سلطان مشرقی) کی حکومت تھی ۔ میرے مورث اعلیٰ کہیتا سرائے کے جنگل میں پہنچے تو وہاں ایک شیر سامنے آگیا۔ ان کے پاس اس وقت صرف ایک تلوار تھی ۔ اس تلوار سے انھوں نے شیر کا مقابلہ کیا اور اس کو مار ڈالا۔ ان کی اس بہادری کی خبر سلطان مشرقی تک پہنچی تو اس نے ان کو اپنے دربار میں بلایا اور اس علاقہ میں انھیں جاگیر عطا کی ۔ میں نے سرور صاحب سے پوچھا کہ کیا اب بھی افغانستان میں ایسے لوگ ہیں جو تلوار کے ذریعہ شیر کو مار سکیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ چنانچہ انھوں نے اپنے ایک عزیز کا واقعہ بتایا کہ ایک بار جنگل میں ان کی مڈبھیڑ ایک شیر سے ہو گئی ۔ اس وقت ان کے پاس ایک بڑی چھری تھی ۔ اسی چھری سے انھوں نے شیر کو مار ڈالا۔ اگر چہ اس مقابلہ میں وہ خود بھی کافی زخمی ہوئے ۔ پٹھانوں (افغانی باشندوں ) کی تصویر یم زمانہ میں " طاقتور بیوقوف" کی تھی۔ پٹھانوں کی بیوقوفی کے بارہ میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں ۔ مثلاً ایک پٹھان کی کسی نے دعوت کی اور اس میں اسے برفی کھلائی۔ پٹھان کو برفی پسند آگئی۔ وہ بازار میں نکلا تو چاہا کہ مزید برفی حاصل کرے۔ ایک دکان پر سفید صابن کی ٹکیاں برائے فروخت رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے سمجھا کہ یہی برفی ہے اور اس کو خرید لیا۔ گھر پر لا کر کھانا شروع کیا تو وہ بہت بدمزہ تھیں۔ پٹھان منہ بگاڑ بگاڑ کر برفی کے ہمہ شکل صابن کو کھا رہا تھا۔ ایک شخص گزرا ۔ اس کے بعد جو سوال وجواب ہوا وہ یہ تھا: سوال : آغا چه می خوری جواب : پیسه می خورم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page