Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 408

By Maulana Wahiduddin Khan

شاید پٹھانوں کی اسی کمتر تصویر کا نتیجہ تھا کہ ہندوستانی شاعر نے پٹھانوں کو ”غسال“ کے خانہ میں ڈال دیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی مغربیت پر طنز کرتے ہوئے اس نے کہا کہ دین سے ان کی دوری اور عدم واقفیت کا یہی انجام رہا تو آئندہ یہ حال ہوگا کہ : آئیں گے غسال کاہل سے کفن جاپان سے تاہم موجودہ زمانہ میں روس کا افغانستان پر حملہ پٹھانوں کے لئے اس اعتبار سے مفید ثابت ہوا ہے کہ اس نے ان کی سابقہ تصویر بدل دی۔ پہلے اگر ان کی تصویر ” طاقتور بے وقوف “ کی تھی تو اب ان کی تصویر ” طاقتور مجاہد “ بن گئی ہے۔ اب وہ پوری مسلم دنیا میں ہیرو کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ افغانوں کی بہادری مشہور ہے۔ یہاں بھی ان کی بہادری کے کئی قصے سننے میں آئے۔ میں نے ایک افغانی نوجوان آصف اللہ شمس (عمر ۳۰ سال) سے پوچھا کہ افغانی لوگ اتنے بہادر اور اتنے نڈر کیوں ہوتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کو بچپن سے اپنے گھر میں اور اپنے ماحول میں یہی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ کوئی افغان لڑکا یا کوئی افغان آدمی اگر بزدلی کی بات کرے تو فوراً اس کو یہ سننے کو ملے گا کہ تم بے غیرت ہو، تم کو شرم نہیں آتی کہ تم افغانی ہو اور تمھارے اندر انسانیت نہیں : تو بی غیرت ہستی ، نئی شرمی، افغان هستی و انسانیت نداری۔ مسٹر سالم علی اور ایک انگریز عالم حیوانات کرنل مینز راگن (R. Meinertzhagen) چڑیوں کے مطالعہ کے لئے ۱۹۳۵ میں افغانستان گئے۔ انھوں نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ وہ چند ہفتے وہاں مقیم رہے۔ وہ افغانی چڑیوں کی تلاش میں دور دور کے علاقوں میں نکل جاتے۔ سفر کے دوران اکثر ایسا ہوتا کہ وہ اپنا کھانے پینے کا سامان راستہ پر یا سڑک کے کنارے رکھ دیتے اور اپنی دور بینوں کے ساتھ جنگلوں میں چلے جاتے یا پہاڑوں پر چڑھ جاتے۔ جب وہ لوگ اپنا کام کر کے واپس آتے تو وہ تعجب کے ساتھ پاتے کہ ان کا سامان بدستور اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ مکھیوں کے سوا کسی اور نے ان کو نہیں چھوا ہے : Salim Ali, The Fall of Sparrow, 1987, p. 100. یہ خصوصیت آج بھی افغانیوں میں موجود ہے۔ افغانی آج بھی ایک باکار زار قوم ہیں تاہم اسی کے ساتھ جان غیر کو مارنا ان کے یہاں اتنا ہی جائز ہے جتنا کہ مال غیر کو لینا نا جائز ہے۔ کابل شہر پہاڑوں کے درمیان آباد ہے۔ بلندی سے دیکھیں تو پورا شہر درختوں اور باغوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page