ریاض کا سفر
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
کا ترجمہ کیا ہے۔ فی الحال اس کو انہوں نے اپنے رسالہ کے نمبر کے طور پر شائع کیا ہے اور آئندہ کتابی صورت میں چھاپنے والے ہیں۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Mar Sherif Ahmad, director medrese Alauddin P.F. 89. Pristina, Yogoslavia. اس طرح ہماری معلومات کے مطابق یہ کتاب اردو کے علاوہ عربی، ترکی، فرانسیسی اور یوگوسلاوی زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ الاسلام یتحدی عرب دنیا میں اس قدر مقبول ہوئی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی اس سے باخبر ہے اور اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہے۔ اکثر ایسا ہوا کہ کسی سے پوچھا گیا کہ آپ نے الاسلام یتحدی پڑھی ہے ، اس کا جواب یہ ہوتا تھا : عِدَّةً مرات (کئی بار) ہماری معلومات کے مطابق ، الاسلام یتحدی اب تک پانچ عرب ملکوں کی جامعات میں باقاعدہ طور پر داخل نصاب ہو چکی ہے۔ قاہرہ، طرابلس، قطر، خرطوم اور تیونس۔ یہاں آنے والوں کے ذریعہ معلوم ہوا کہ کئی عرب یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ مستقل طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کے مضامین کو اپنے لکچروں میں استعمال کرتے ہیں۔ مگر جہاں تک راقم الحروف کا علم ہے، ہندوستان اور پاکستان کی کسی بھی درس گاہ کے نصاب میں اب تک وہ داخل نہ کی جا سکی۔ ہمارے قائدین اور ہمارے مدارس کے ذمہ دار یہ اعلان تو بار بار کرتے رہتے ہیں کہ ” معقولات اور علم کلام پر جدید انداز میں کتاب لکھنے کی ضرورت ہے“ مگر جب ایسی کتاب لکھ کر شائع کر دی جائے تو ان کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھرتا کہ اس کو اپنائیں اور عملاً اس کو استعمال کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ہر آدمی صرف کہنے کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے، کرنے کا کریڈٹ لینے کا شوق کسی کے اندر نہیں۔ طرابلس میں الاسلام یتحدی سے متعلق ایک عجیب کہانی معلوم ہوئی۔ طرابلس میں محمد سلیمان القائد اور علی مختار المجیدی ہمارے دعوتی مشن سے بہت متاثر ہیں۔ ۱۹۷۷ء میں وہ ڈاکٹر عبداللہ الحسونی (رئیس قسم اللغۃ العربیۃ ، کلیۃ التربیۃ ، جامعۃ طرابلس) سے ملے اور ان سے کہا کہ اسلامی مرکز کے لئے آپ تعاون دیجئے۔ وہ مذکورہ لیبی نوجوانوں کے قریبی ملاقاتی تھے۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم میں تو ایک غریب آدمی ہوں (واللہ انا مفلس) عبداللہ الحسونی کے پاس واقعتاً مال نہ تھا۔ تاہم وہ ایک شریف آدمی تھے۔ رات کو جب وہ بستر پر لیٹنے تو ان کے دل نے انھیں ملامت کی کہ تمھارا دوست تم سے ایک نیک کام میں مدد لینے کے لئے آیا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader