ریاض کا سفر
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
تم اس کی کچھ مدد نہ کر سکے ۔ یہ احساس ان پر اس قدر غالب آیا کہ وہ رات کو ٹھیک سے سو نہ سکے ۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ان کے احتساب خویش نے ان کے سامنے ایک نیا وسیع تر دروازہ کھول دیا۔ وہ " الاسلام تجدّی " کو پڑھ رہے تھے اور اس کی اہمیت کے معترف تھے۔ انھوں نے سوچا کہ اگر چہ میرے پاس مال نہیں ہے اور مال کے ذریعہ میں اس دینی مشن کی مدد نہیں کر سکتا۔ مگر میں ایک تعلیمی ادارہ کا صدر ہوں اور میں ایسا کر سکتا ہوں کہ الاسلام تجدّی کو اپنے یہاں تعلیمی نصاب میں داخل کر دوں۔ اگلی صبح کو وہ خود مذکورہ لیبی نوجوان کے گھر پہنچے اور اس سے کہا کہ میں نے تمھارے مشن کی مدد کے لئے ایک اور راستہ پالیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میں نے تمھارے مشن کے تحت شائع شدہ کتاب (الاسلام تجدّی) کو یونیورسٹی کے نصاب میں داخل کر دیا ہے۔ اسی وقت انھوں نے کتاب کے پانچ ہزار نسخوں کا آرڈر لکھ کر محمد سلیمان القائد کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کی فراہمی کا فوراً انتظام کریں۔ چنانچہ کتاب بہت جلد قاہرہ سے منگالی گئی۔ اس کے بعد اگلے چند سالوں میں مزید کتابیں منگائی گئیں ۔ اندازہ ہے کہ اس کے بعد مجموعی طور پر تقریباً پچاس ہزار کتابیں لیبیا میں پہنچیں ۔ اس کی قیمت مصری سکہ میں ۵۰ قرش تھی جو لیبیا میں بمشکل ۵۰ پیسہ کے بقدر ہے۔ چنانچہ طلبہ اور غیر طلبا نے کثرت سے خریدا۔ لیبیا اگر چہ رقبہ کے اعتبار سے بڑا ملک ہے، مگر اس کی آبادی بہت تھوڑی ہے۔ چنانچہ چند سالوں کے اندر ایسا ہوا کہ الاسلام تجدّی لیبیا کے تقریباً ہر پڑھے لکھے آدمی تک پہنچ گئی۔ لیبیا نیز دوسرے ملکوں کے کئی صحافی حضرات نے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات میں دو سوال بہت مشترک ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ آپ نے الاسلام تجدّی کے بعد اور کیا کیا تحریری کام کئے ہیں۔ میں نے بتایا کہ اس کے بعد کافی تحریری کام ہو چکا ہے مگر عربی میں ان کے ترجمہ اور اشاعت کا کام ابھی باقی ہے۔ دوسرا سوال جو تقریبا ہر اخبار یا رسالہ والے نے کیا وہ یہ کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مشکلات و مسائل درپیش ہیں ان کا آپ کے نزدیک کیا حل ہے۔ میں نے سب کو ایک ہی جواب دیا۔ وہ یہ کہ تمام مسائل کا ایک ہی یقینی حل دعوت الی اللہ ہے۔ دوسرا کوئی حل نہ اب تک کامیاب ہوا ہے اور نہ آئندہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ ۲۰ اگست کو طرابلس کے ٹیلی وزن پر میرا ایک انٹرویو نشر کیا گیا۔ اس طرح کا انٹرویو عام طور پر ۱۵ منٹ کا ہوتا ہے مگر میرا انٹرویو خاص طور پر ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ سوالات زیادہ تردد چیزوں سے متعلق تھے۔ ایک یہ کہ آپ کے مرکز اسلامی کے تحت کیا کیا کام ہو رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جدید تحدیات کے مقابلہ میں آپ کے نزدیک اسلام کا موقف کیا ہونا چاہئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader