Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 410

By Maulana Wahiduddin Khan

تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ان کے پھٹے کپڑوں اور میلے جسموں کے پیچھے خوبصورت افغان چہرے جھلک رہے تھے۔ تعلیم کی کمی اور معاشیات کی بربادی افغانستان میں اپنی آخری حد کو پہنچ رہی ہے۔ یہاں ہندوستانی روپیہ چلتا ہے۔ ایک روپیہ پندرہ افغانی روپیہ کے برابر ہے۔ اس سے یہاں کی اقتصادی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مسجد کے دروازہ کے باہر ایک بوڑھا افغانی انار اور سیب بیچ رہا تھا۔ لکڑی کی پرانی گاڑی کے اوپر ایک طرف پھل تھے اور دوسری طرف ترازو اور اس کے ساتھ پتھر کے باٹ۔ گاہکوں کی آمد سے بے پروا ہو کر وہ ہاتھ میں تسبیح لئے کھڑا تھا اور ”سیب لو سیب“ یا ”انار لو انار“ جیسی آوازیں لگانے کے بجائے خاموش تسبیح خوانی میں مشغول تھا۔ افغانستان میں جہازوں کی گڑگڑاہٹ اور بم کے دھماکوں کے سوا جیسے زندگی ہر جگہ ٹھہری ہوئی نظر آئی۔ افغانستان میں پشتو اور دری، دوزبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں جس زبان کو فارسی کہا جاتا ہے اس کو افغانستان میں دری کہتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ دری اور پشتوز بانیں ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی بھی۔ دو تقابلی فقرے سے اس فرق کو سمجھا جا سکتا ہے : پشتو دری زه چای خورم من چای می خورم زه کور لرم من خانه دارم کابل میں میرا قیام جس ہوٹل (روم ۳۲۸) میں تھا، اس کو مقامی لوگ اپنی زبان میں میلہ پال ہوٹل کہتے ہیں۔ مگر اس نام کی ہٹ پر اس کو افغانی ہوٹل سمجھنا ایسا ہی ہوگا جیسے تارہ میں ”نصر“ کار کو دیکھ کر کوئی شخص سمجھے کہ یہ مصری صنعت کی بنائی ہوئی کار ہے۔ مسلم ملکوں میں بہت سی جدید چیزیں ہیں جن کے نام بظاہر مقامی مسلم زبان میں ہوتے ہیں، مگر حقیقتاً وہ خالص مغربی ہوتی ہیں۔ اس ہوٹل کا اصل نام ”انٹر کانٹینٹل ہوٹل“ ہے۔ یہ دراصل مغربی سرمایہ کے تحت قائم شدہ ایک عالمی تجارتی تنظیم ہے جس کا رجسٹرڈ نام Inter-Continental Hotels ہے۔ اس کے تحت یروشلم سے لے کر نیویارک تک درجنوں شہروں میں ہوٹل قائم ہیں۔ اسی طرح ابوظبی، عمان، قاہرہ، دبئی، اصفہان، کابل، مکہ، مسقط ، ریاض، شارجہ، طائف، تہران، کراچی، لاہور وغیرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page