Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 411

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بھی اس کے ہوٹل چل رہے ہیں۔ "ہوٹل" اپنے جدید معنوں میں ایک زبردست انڈسٹری ہے اور موجودہ زمانہ کی دوسری انڈسٹری کی طرح مسلمان یہاں بھی بہت پیچھے ہیں۔ میرے کمرہ کے دروازہ پر دستک ہوئی۔ کھولا تو ایک افغانی عالم اندر داخل ہوئے۔ وہ روانی کے ساتھ عربی بول رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں عرب انداز کی تسبیح تھی جس پر مسلسل ان کی انگلیاں چل رہی تھیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ افغانستان میں مسلمانوں کا حال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر لحاظ سے بہت اچھا (عالی من جميع الجهات)۔ انھوں نے بتایا کہ صرف کابل میں ۴۱۰ مسجدیں ہیں۔ البتہ دینی درس گاہ صرف ایک ہے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ آخر میں میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے اس طرح اپنا نام بتایا : حجتہ الاسلام الشیخ محمد عوض صادقی، معین وزارة الشئون الدينية والأوقاف۔ ایک روز ناشتہ کی میز پر میرے ساتھ ایک افغانی بھائی بھی تھے۔ میز پر مختلف قسم کے کھانے کے سامان موجود تھے۔ اسی کے ساتھ ایک پیالہ میں شکر کے ڈلے تھے جو چائے میں ڈالنے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ میں نے افغانی بھائی سے پوچھا کہ یہاں عام افغانی کا روزانہ ناشتہ کیا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت اپنی ڈبل روٹی میں مکھن لگا رہے تھے۔ وہ اچانک ٹھہر گئے۔ انھوں نے شکر کے پیالہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: روٹی اور شکر۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے مزید پوچھا کہ افغانستان میں اتنی زیادہ جہالت ہے۔ افغانی لوگ اپنے بچوں کو پڑھاتے کیوں نہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ عام افغانی کو اپنی روٹی کھانے کے لئے اتنی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کہ بچوں کو پڑھانا اس کے بس میں نہیں۔ افغانی لوگ بے حد محنتی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس نہایت قیمتی زمینیں ہیں۔ اس کے باوجود افغانی قوم جہالت اور غربت کی شکار ہے۔ میری معلومات کے مطابق امیر امان اللہ خاں کے بعد یہاں کوئی قابل ذکر تعمیری کام نہیں ہوا۔ کابل میں میں ایک افغانی سے ملا۔ اس نے اپنا نام محمد سرور بتایا۔ وہ مجھ سے قطعا واقف نہ تھا۔ حتیٰ کہ اس نے میرا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اس سے میں نے پوچھا کہ افغانی لوگ امیر امان اللہ خاں کے بارہ میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ امان اللہ خاں کے بارہ میں عام افغانیوں کی عین وہی رائے ہے جو خود میری رائے ہے۔ اس افغانی نے اپنی زبان میں کہا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page