افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 413
By Maulana Wahiduddin Khan
از خود ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ امیر امان اللہ خاں نے ملکی اشیاء رواج دینے کی ہم چلائی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے ملک کا کپڑا پہنو۔ اگر کوئی افغانی یا کوئی افسر بیرون ملک کے کپڑے پہنے ہوئے نظر آیا تو انھوں نے فوراً اس کے قریب جا کر اولاً اس کی تعریف کی اور پھر اپنی جیب سے چھوٹی قینچی نکال کر کپڑے کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا اور کہا کہ نمونہ گیر یم (ہم تمہارے کپڑے کا ایک نمونہ لے رہے ہیں) اس طرح اس کے کپڑے کو بر باد کر دیتے۔ امان اللہ خاں راتوں کو اکیلے گھومتے تھے۔ چونکہ کابل میں رات کو اکیلے نکلنا منع تھا، ایک مرتبہ ایک سپاہی نے ان کو گرفتار کر لیا۔ تاہم امان اللہ خاں نے ناخوش ہونے کے بجائے اس کی فرض شناسی پر اس کو انعام دیا۔ امان اللہ خاں نے اپنے ملک میں تعلیم جاری کی سائنس کی تعلیم کے لئے کچھ لڑکوں کو لندن بھیجا۔ ان افغانی طلبہ کے ساتھ انھوں نے ایک عالم بھی حکومت کے خرچ پر روانہ کیا۔ انھوں نے یہ تا کیدی ہدایت کی کہ ان کے اسکول کے عیسائی لڑکے جب چرچ جائیں تو افغانی لڑکے اس وقت قرآن کی تلاوت کمر میں (۹۴) امیر امان اللہ خاں ۱۹۱۹ سے ۱۹۲۹ تک افغانستان کے حکمران تھے ۔ اس کے بعد ملک میں ان کے خلاف بغادت ہوئی ۔ یہاں تک کہ انھیں ملک چھوڑ کر باہر چلا جانا پڑا۔ اسی جلا وطنی کی حالت میں ۲۵ اپریل ۱۹۶۰ء کو نیویارک میں ان کا انتقال ہو گیا۔ امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا خاص الزام ان کے اوپر یہ تھا کہ وہ خلاف شرع طریقے ملک میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً وہ چاہتے تھے کہ افغان عورتیں گھر سے باہر نکل آئیں اور بے پردہ ہو کر مردوں کے ساتھ کام کریں۔ مگر یہی پٹھان تھے جنھوں نے اس سے تقریب اُسو سال پہلے سید احمد شہید بریلوی کے معاملہ میں اس سے بالکل مختلف رد عمل اختیار کی۔ سید صاحب نے پٹھانوں کے علاقہ میں اسلامی امارت قائم کی اور شرعی قوانین (زکوۃ وغیرہ کا قانون) جاری کیا۔ مگر پٹھانوں نے شرعی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی امیر امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کو اگر دینی حمیت یا اسلامی جہاد کہا جائے تو سید صاحب کے خلاف بغاوت کو کیا نام دیا جائے گا۔ بیسویں صدی میں مسلم دنیا کو تین ایسے حکمراں ملے جو واقعی معنوں میں مد بر تھے اور دور جدید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader