Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 414

By Maulana Wahiduddin Khan

کی حکومت کو چلانے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ افغانستان کے امان اللہ خاں (۱۹۶۰ ۔ ۱۸۹۲) اور سعودی عرب کے ملک فیصل (۱۹۷۵۔ ۱۹۰۶)، اور پاکستان کے محمد ایوب خاں (۱۹۷۴۔ ۱۹۰۷) تینوں حکمرانوں کو پوری طرح کام کرنے کے مواقع نہ مل سکے۔ ان تینوں کے قاتل، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، موجودہ زمانہ کی نام نہاد اسلامی سیاست تھی۔ حقیقت بہہر ہے کہ اس "اسلامی سیاست" سے اسلام کو جتنا نقصان پہنچا ہے اتنا کسی اور چیز سے اس کو نہیں پہنچا۔ بعض باتیں قومی امنگوں کے اعتبار سے بہت سنگین معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن انھیں باتوں کو اگر خالص حقیقت کے اعتبار سے جانچا جائے تو وہ بالکل مختلف نظر آئیں گی۔ مثال کے طور پر انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوئے تو وہ مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ اپنی نو آبادیاتی سلطنت کو افغانستان تک وسیع کرسکیں۔ اس کا مقصد افغانستان پر قبضہ سے زیادہ روسی خطرہ کا دفاع تھا۔ مگر افغانیوں کی شدید مزاحمت کی وجہ سے انگریز اپنے اس منصوبہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ہمارے پر جوش رہنما عام طور پر اس واقعہ کو اپنے اور افغانیوں کے فخر کے خانہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو وہ صرف ایک پر جوش نادانی نظر آئے گی۔ انگریز کا معاملہ معروف معنوں میں صرف ایک "بیرونی سامراج" کا معاملہ نہ تھا۔ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ جدید تعلیم اور سائنٹفک انقلاب کے ہراول بن کر ایشیا میں داخل ہوئے تھے۔ نیز یہ کہ خود سائنسی انقلاب کی اپنی داخلی منطق کے تحت یہ بھی مقدر تھا کہ نو آبادیاتی اقتدار بالا آخر ختم ہو اور قومی اقتدار اس کی جگہ لے لے۔ افغانی لوگوں کا جوش اگر ہوش کے تابع ہوتا اور وہ وقتی طور پر برطانیہ کی سر پرستی کو قبول کر لیتے تو اس کا انھیں زبر دست فائدہ ملتا۔ برطانی اقتدار تو یقیناً اپنے وقت پر ختم ہو جاتا۔ مگر افغانستان کو اس "صبر" کی یہ قیمت ملتی کہ آج افغانستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا نہ کہ ایک برباد شدہ ملک جیسا کہ آج وہ نظر آتا ہے۔ کانفرنس کا رسمی آغاز ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ کی صبح کو ہوا۔ اس کارروائی کو "پریس کانفرنس" کا نام دیا گیا تھا۔ مگر زیادہ صبح طور پر وہ ایک ملاقات تھی۔ کیونکہ اس موقع پر جو کارروائی ہوئی وہ یہ تھی کہ افغانستان کی وزارت امور اسلامی کے ذمہ داروں نے افغانستان میں اسلام اور اسلامی تعلیم کی حالت کے بارہ میں معلومات بیان کیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page