Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ان کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں۔ غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے افغانی مجاہدین ایک بات کو جانتے ہیں، مگر وہ دوسری اہم تر بات کو نہیں جانتے۔ وہ اس بات کو مبالغہ آمیز حد تک جانتے ہیں کہ ان کی شجاعت نے روسی فوجوں کو واپسی پر مجبور کیا ہے۔ مگر وہ اس تاریخی حقیقت سے سرے سے نا واقف ہیں کہ روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی دراصل ایک دور کا خاتمہ ہے۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جیسے مہاتما گاندھی کی تحریک آزادی نے انگریزیوں کو ہندستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ مگر انگریزوں کا یہاں سے نکلنا اسی کے ساتھ اس بات کا اعلان بھی تھا کہ اب قدیم طرز کا نو آبادیاتی دور (Colonial age) ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والے نہیں۔ مجاہدین میں اگر کچھ ایسے لوگ ہوتے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے اور وقت کی رفتار کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ روسی فوجوں کی واپسی سادہ طور پر صرف واپسی نہیں ہے، یہ اس دور کا خاتمہ ہے جس میں روسی طرز کا تدخل ممکن ہوتا تھا۔ اگر افغانی مجاہدین اس راز کو جانتے تو ان کا طرز کار بالکل بدل جاتا۔ ہتھیار کی طاقت سے انھوں نے خارجی حریف کو زیر کیا تھا، امن کی طاقت سے وہ داخلی حریف پر قابو پا لیتے۔ کابل سے انگریزی کا صرف ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام " کابل ٹائمز " ہے۔ البتہ فارسی (دری) میں بہت سے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اخبار انیس (۱۰ ربیع الاول ۱۴۰۹ ) کے ایڈیٹوریل کا عنوان تھا: محمد صالح کبیر وانسان دوست بنہ رنگ ۔ اس میں مولوی عبدالشکور (خطیب مسجد جامع باغ بالا) کی ایک تقریر کی رپورٹ تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا ۔ " صالح را پیش کش می کنیم"۔ خبر کے مطابق انھوں نے کہا: روایت است در جنگ حدیبیہ با وجودیکه بشرائط گرانی را بالای محمد قبول دار گر دیدند، آنحضرت صلح را ترجیح داد۔ زیر امی دانست که یک طرف مشرکین از جمله اقوام اومی باشند، و طرف دیگر یارا ن ہمر کابش، پس صلح حدیبیہ را به خاطر قطع جنگ و خوں ریزی می قبول دار شد۔ برادر کشی کے خاتمہ کے لئے (برائے ختم برادر کشی) افغان مجاہدین سے صلح کی پیش کش کی مزید تفصیل مجھے امریکی میگزین ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸ ) سے ملی ۔ ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸ ) نے لکھا ہے کہ افغانستان میں اس وقت ۳۵ سالہ احمد شاہ مسعود کو " شیر پنج شیر" کی حیثیت حاصل ہے۔ اس افغانی نوجوان نے کابل کے پالی ٹیکنیک انسٹی ٹییوٹ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ کھیلے تقریبا دس سال سے وہ مجاہدین کا استاد بنا ہوا ہے۔ اس کا تعلق افغانستان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page