افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 420
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اسلامی جماعت ہے۔ ٹائم نے اس سلسلہ میں بتایا ہے کہ نو سال کی جنگ کے بعد افغانستان کی وادی خالی بستیوں اور برباد مکانات کا نمونہ بنی ہوئی ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت جنگ بندی یا مخلوط حکومت تک پر راضی نظر آتی ہے۔ صدر نجیب اللہ جو اس وقت مایوسی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا حامی روس واپس جا رہا ہے، حال میں انھوں نے مسعود کو یہ پیش کش کی کہ امن قائم کرنے کے بدلے وہ حکومت میں کوئی بڑا عہدہ قبول کر لیں ۔ President Najibullah recently offered Massoud a choice of top government posts in exchange for peace (p.10). ٹائم کے بیان کے مطابق، احمد شاہ مسعود نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ وہ موجودہ حکومت کی بے دخلی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہیں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی غلطی ہے جو اس سے پہلے سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی کر چکے ہیں۔ سید قطب کو جمال عبد الناصر نے مصر کی وزارت تعلیم کی پیش کش کی، مگر سید قطب کو اس سے کم کوئی چیز قبول نہ تھی کہ جمال عبد الناصر کرسی اقتدار سے ہٹ جائیں۔ اسی طرح سید ابو الاعلیٰ مودودی کو محمد ایوب خاں نے یہ پیش کش کی کہ حکومت انھیں اعلیٰ ترین وسائل دے گی، وہ ایک انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی قائم کریں اور اس میں اپنی صلاحیتیں لگا دیں۔ مگر دوبارہ سید ابو الاعلیٰ مودودی اس سے کم کسی بات پر راضی نہ ہو سکے کہ محمد ایوب خاں کرسی اقتدار سے ہٹ جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں رہنما مصر اور پاکستان میں ممکن تعمیری کام نہ کر سکے، وہ صرف بربادی کی تاریخ چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔ افغانی مجاہدین نے اگر اپنے رخ میں تبدیلی پیدا نہ کی تو یقینینی ہے کہ وہ بھی اس دنیا سے اس حال میں جائیں گے کہ ان کے پیچھے ایک برباد شدہ افغانستان کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ ہوگی۔ اور اس دنیا سے بہ حال ہر ایک کو جانا ہے۔ افغانی مجاہدین کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انھوں نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انھوں نے اپنی غیر معمولی قربانی سے ۱۹۸۸ میں افغانستان میں اس تاریخی عمل کو تکمیل کے مرحلہ تک پہنچایا ہے جو ۱۹۷۳ میں ویت نام میں شروع ہوا تھا۔ ویت نام کو امریکہ نے طاقت کے ذریعہ کھر کرنا چاہا۔ مگر ویت نامیوں کی ناقابل تسخیر مزاحمت نے امریکہ کو ۱۹۷۳ میں وہاں سے لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعہ سے ثابت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader