Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 429

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بلاشبہ ان کی موجودہ بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ میں نے ان سے مزید پوچھا کہ جاپان نے موجودہ زمانہ میں جو ترقی کی ہے اس کو اقتصادی معجزہ کہا جاتا ہے۔ اس معجزہ کار از کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاپان اس کو معجزہ نہیں کہتے۔ وہ اس کو سخت محنت (Hard work) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ اگر اس کو معجزہ کہا جائے تب بھی اس کا اصل راز ہار ڈورک ہی ہے نہ کہ کوئی پراسرار چیز۔ ایک پاکستانی پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں اور امریکہ کی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ وہ تقریباً ۳۰ سال سے امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں زندگی بہت پرسکون ہے۔ مگر وہاں کا سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جو ہماری نسلوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے بچے وہاں کے ماحول سے اتنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کہ اس بات کا شدید اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری تیسری نسل مسلمان بھی باقی رہے گی یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے جیسے لوگ برابر اپنے وطن واپس جانے کو سوچتے رہتے ہیں، مگر اب وطن کا ماحول بھی اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ امریکہ کا مسئلہ اگر غیر اسلام ہے تو پاکستان میں کچھ لوگوں کی نادانی سے خود اسلام ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ میری یہ بات انھیں عجیب معلوم ہوئی۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اس کو زبردستی اسلامائز کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہاں اسلام تو نہیں آیا، البتہ لوگ اسلام سے متنفر ہوگئے۔ ایک نوجوان اگر جاہل رہ جائے اور جلد تعلیم یافتہ بنانے کے شوق میں آپ اس کو مار مار کر پڑھانا شروع کردیں تو وہ تعلیم یافتہ تو نہیں بنے گا، البتہ تعلیم سے متنفر ہو جائے گا۔ یہی صورت پاکستان کے ساتھ پیش آئی ہے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت کے ساتھ یہ ہدایت دی تھی کہ میرے بعد مسلم حکمرانوں سے نہ لڑنا، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ تم دیکھو کہ ان میں بگڑ آ گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مقصد کوششوں کو روکنا نہیں بلکہ کوششوں کو ڈائیورٹ (divert) کرنا تھا۔ یہی کام کرنے کا صحیح ترین طریقہ ہے۔ اور اسلام کی تاریخ میں اس کی انتہائی روشن مثال محدثین کا طبقہ ہے۔ محدثین کے زمانہ میں حکمرانوں میں بہت بگاڑ آچکا تھا، مگر انھوں نے حکمرانوں سے ٹکرانے کے بجائے اپنے آپ کو حدیث کی خدمت میں لگا دیا۔ اس کے نتیجہ میں حدیث کی جمع و تدوین کا وہ عظیم الشان کام انجام پایا جس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page