افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 428
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا نہیں کہا۔ بیشتر لوگ کسی بات کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کی مسلمہ شخصیت نے ایسا کہا ہے نہ کہ دلیل سے اس طرح شباہت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے اندر سچائی کبھی ذہنی انقلاب بن کر داخل نہیں ہوتی۔ ان کا ذہنی ہمیشہ شخصیتوں کی عظمت میں گم رہتا ہے ، وہ حقائق کی عظمت میں گم ہونے کا کبھی تجربہ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر اسکندر احمد چودھری بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ آجکل وہ ٹوکیو (جاپان) میں مقیم ہیں۔ وہاں وہ ریڈیو میں بنگالی اناؤنسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اسلامک کلچر سوسائٹی جاپان کے ڈائریکٹر ہیں۔ ڈاکٹر چودھری سے جاپان کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں نے جاپان پر ۱۹۷۰ء سے لکھنا شروع کیا جب کہ ہندوستان میں جاپان کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جواہر لال نہرو اس کو اپنی ناواسبتگی کی پالیسی کے خلاف سمجھتے تھے کہ وہ جاپان سے تعلق تالم کریں۔ پچھلے ۲۵ سال میں میں نے جاپان پر اتنے زیادہ مضامین لکھے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے ۔ میں نے کہا کہ جاپان سے میری دلچسپی کا سبب ہے " حدیبیہ" کی پالیسی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کے میدان میں عالی شان طور پر استعمال فرمایا تھا، اس کو تاریخ میں دوسری بار جاپان نے سیکولر میدان میں استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر چودھری سے میں نے کہا کہ اس پالیسی کو جاپانیوں نے عمل معکوس (Reverse course) کا نام دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ گیا کو تن (Gyakuten) ہے۔ ڈاکٹر چودھری سے گفتگو کے دوران میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جاپانیوں کی خاص صفت جس کی بنا پر انھوں نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے، وہ، ایک لفظ میں ، حکم کی تابعداری (Submission to authority) کا مزاج ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کسی بڑی ترقی کے لئے یہ سب سے اہم صفت ہے۔ جاپانیوں میں یہ صفت آخری حد تک پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے افسر یا حاکم کی بات کو فوراً ماننے پر راضی ہو جاتے ہیں ، خواہ وہ انھیں صحیح نظر آئے یا غلط ۔ یہ صفت صحابہ کرام میں بدرجہ کمال پائی جاتی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ صفت انتہائی حد تک مفقود ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader