افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 431
By Maulana Wahiduddin Khan
مل جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ صاحب پورے رسالے کی فوٹو کاپی کر کے مجھے روانہ کر دیتے ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اکتوبر ۱۹۸۸ء کے رسالہ میں زمین سے محروم (صفحہ ۳) کے عنوان سے جنرل ضیاء الحق مرحوم پر جو مضمون ہے وہ لاجواب ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل ضیاء کی موت پر مسلم دنیا کے تقریباً ہر اخبار اور ہر رسالے نے مضامین شائع کئے ہیں اور ہر رہنما نے اپنے بیانات دئے ہیں، مگر آپ کا مضمون ان سب میں منفرد تھا۔ دوسرے لوگوں نے عام طور پر صرف ضیاء کی تعریف کی ہے۔ ان کو ہیرو بنایا ہے۔ مگر آپ نے اس سے سبق کا پہلو نکالا ہے۔ اور مومن کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہر واقعہ اور ہر حادثہ سے عبرت اور نصیحت لے۔ انھوں نے کہا کہ امت پر اس قسم کا سب سے بڑا واقعہ وہ تھا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ اس وقت صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا کہ ہر ایک آپ کی شان میں تعریفی تقریر کرنے لگے اور آپ کو "شہید" یا اسلامی ہیرو ثابت کرنے میں تمام الفاظ صرف کر ڈالے۔ اس کے برعکس انھوں نے اس واقعہ سے موت اور آخرت کی یاد حاصل کی۔ حضرت ابو بکر تشریف لائے اور آپ کی میت کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت پڑھی: کل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والا کرام۔ اسی طرح حضرت عباس نے فرمایا: واللہ الذي لا اله الاهو لقد ذاق رسول الله صلى الله عليه وسلم الموت۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس دور میں الرسالہ سنت رسول اللہ کو زندہ کر رہا ہے۔ لوگوں کو قومی دین سے نکال کر خدا و ندی دین پر لا رہا ہے۔ اس وقت اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ کمرہ کی جو میز تھی، اس کے سامنے ملا ہوا بڑا سا شیشہ لگا ہوا تھا۔ میں بیٹھ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ اس دوران آئینہ کی طرف نظر گئی تو دکھائی دیا کہ قلم میرے بائیں ہاتھ میں ہے، حالانکہ میں اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا۔ اسی طرح گھڑی دائیں ہاتھ میں دکھائی دی، حالانکہ وہ میرے بائیں ہاتھ میں تھی۔ ایسا اس لئے تھا کہ آئینہ میں آدمی کی تصویر الٹ جاتی ہے۔ یعنی دیاں رخ بائیں طرف اور بایاں رخ دائیں طرف ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو خارجی دنیا کو اپنے فٹ کئے ہوئے شیشہ میں دیکھیں، ان کے اپنے مشاہدہ میں ہر چیز الٹی ہوگی اور وہ ان کو الٹی صورت میں بیان کریں گے۔ بظاہر وہ اپنے بیان میں مخلص ہوں گے۔ مگر مخلص ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader