افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 432
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ آدمی جو کچھ کہہ رہا ہے وہ واقعہ کے اعتبار سے بھی صحیح ہے۔ ایک چیز باعتبار مشاہدہ کچھ اور ہوتی ہے اور باعتبار واقعہ کچھ اور۔ فجر کی اذان کی آواز آئی۔ گھڑی دیکھی تو ہندوستانی وقت کے لحاظ سے گھڑی میں چھ بج رہے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ دہلی میں آجکل فجر کی اذان تقریباً پانچ بجے ہوتی ہے۔ افغانستان کا وقت، ہندوستان کے مقابلہ میں ایک گھنٹہ پیچھے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان " آگے " ہے اور افغانستان اس سے " پیچھے " یہ صرف ایک جغرافی تقظیم کا معاملہ ہے نہ کہ سابق اور سابق کا معاملہ۔ نماز میں امام کو آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام کی شخصیت برتر ہے اور دوسرے نمازیوں کی کم تر۔ یہ قیام جماعت کے لئے ایک انتظامی تقسیم ہے۔ کبھی فرق باعتبار جو ہر ہوتا ہے اور کبھی فرق باعتبار انتظام ۔ جو لوگ جو ہری تقسیم اور انتظامی تقسیم کے اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ ایک عظیم الشان غلطی کرتے ہیں۔ جس فرق کو اللہ تعالی نے برائے انتظام رکھا تھا ، اس کو افضلیت اور غیر افضلیت کے معنی میں لے لیتے ہیں اور پھر دین میں زہر دست خرابی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ۲۵ اکتوبر کو میں نے واپسی کا پروگرام بنایا تھا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے پیغام ملاکہ ۲۵ اکتوبر کی شام کو ڈاکٹر نجیب اللہ (پریزیڈنٹ افغانستان) شرکا کا نفرنس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کا نام لے کر خاص طور پر انھوں نے کہا کہ ان سے ملنا بھی ضروری ہے۔ یہ ملاقات یہاں کے صدارتی محل میں ہونے والی تھی۔ میں نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں ۲۵ اکتوبر کی فلائٹ چھوڑ دوں تو اس کے بعد اگلی فلائٹ مجھے ۲ اکتوبر کو ملے گی۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ عذر پریزیڈنٹ صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی فکر نہ کیجئے ۲۶ اکتوبر کو انھیں اسپیشل فلائٹ کے ذریعہ دہلی پہنچا دیا جائے گا۔ مگر اپنے ضروری پروگرام کے تحت میرے لئے مزید مظہر نے کا موقع نہ تھا ، چنانچہ میں ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو دہلی واپس آگیا۔ ۲۵ اکتوبر کو مجھے انڈین ایرلائنز سے واپس آنا تھا۔ مگر اس روز کی فلائٹ سے ہماری سیٹ کنفرم نہ تھی۔ میں اور میرے ساتھی دونوں ویٹنگ لسٹ پر تھے ۔ ائیر پورٹ پہنچے تو کاؤنٹر پر بہت پایا گیا کہ تمام سیٹیں بھر چکی ہیں ۔ اب اس جہاز سے سفر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اتنے میں انڈین ایرلائنز کے مینیجر کسی وجہ سے وی آئی پی لاؤنج میں آگے جہاں ہم لوگ بیٹھے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader