افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 433
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے ۔ میں فوراً اُن سے ملا اور کہا کہ کل مجھے روم جانا ہے ، اس لئے آج میرا وہاں پہنچنا ضروری ہے ۔ اگر آپ اس جہاز سے ہمیں بھیج دیں تو آپ کی بڑی عنایت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ، میں تھوڑی دیر میں بتاتا ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ اپنے آفس میں چلے گئے ۔ چند منٹ بعد ایک کلرک آیا ۔ اس نے ہم دونوں آدمیوں کا ٹکٹ اور پاسپورٹ مانگا ۔ تھوڑی دیر کے بعد مذکورہ کلرک دوبارہ آیا اور ٹکٹ اور پاسپورٹ کے ساتھ ہمارا بورڈنگ کارڈ بھی ہمارے حوالے کر دیا۔ اینڈ ۳۔ ائیر لائنز کے عملے نے ہمارا سامان کا آخری حصہ بھی کے بعد ان کا نام اور پتا درج کر دیں اس کے بعد ان کا نام اور پتا درج کر دیں انڈین ایئر لائنز کے میجر بھوں نے بالکل آخر وقت میں ہمارا یہ کام کیا ان کا نام مسٹر او دے کمار شرما تھا۔ اس کے بعد جب میں ہوائی جہاز میں داخل ہو کر اپنی سیٹ پر بیٹھا تو میرا دل کہہ رہا تھا ۔ اگر آدمی اپنے کیس کو جینوئن کیس ثابت کر سکے تو ہر شخص اس کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ، خواہ اس کے نام ادوے کمار شرما ہو یا محمد اسلام الدین۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader