Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 435

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے تیار رہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی نہیں جو خدا کا جھنڈا اٹھانے ہی کو اپنا مشعلہ حیات بنائے ہوئے ہیں۔ افسر کے معاملہ میں انسان کا حال یہ ہے کہ ”پرابلم“ ہو تب بھی وہ اس کی اطاعت کرتا ہے مگر خدا کے معاملہ میں صورت حال اس کے برعکس ہے __ اگر پرابلم نہ ہو تو وہ خدا کے حکم کو مانے گا۔ اور اگر پرابلم پیش آجائے تو وہ خدا کے حکم کو ماننے سے انکار کر دے گا۔ دہلی سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کی فلائٹ ۳۳۷ کے ذریعہ ہوا۔ جہاز کے کیپٹن ضیاء الاسلام تھے۔ پی آئی اے کے جہاز کی صفائی اور اس کا انتظامی معیار انڈین ایئر لائنز سے بہتر نظر آیا۔ پی آئی اے کے میگزین (ہم سفر) کے سر ورق پر عالمی معیار کے مطابق (Your personal copy) لکھا ہوا تھا۔ جب کہ انڈین ایئر لائنز کے میگزین نمسکار پر اس قسم کا اندراج نہیں ہوتا۔ البتہ ایک چیز دونوں میں مشترک تھی۔ نمسکار میں انگریزی کے ساتھ ہندی مضامین کا حصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم سفر میں انگریزی کے ساتھ اردو کا۔ مگر دونوں میں انگریزی زبان کا حصہ زیادہ تھا اور اپنی قومی زبان کا حصہ اس کے مقابلہ میں کم۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی برتری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مگر عین اسی وقت وہ بیرونی تہذیب کی برتری کو فخر کے ساتھ قبول کیے ہوئے ہیں۔ جہاز اپنے ٹھیک وقت پر ۱۰ بج کر ۳۰ منٹ پر روانہ ہوا۔ تاہم اس کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں ۔ اس قسم کے مسافر جہازوں کو تجارتی پرواز (کمرشیل فلائٹ) کہا جاتا ہے۔ مگر دنیا بھر میں اڑنے والے جہازوں کی بہت بڑی تعداد عملاً نان کمرشیل فلائٹ ہوتی ہے۔ یہ در اصل ان پروازوں کا بالواسطہ فائدہ ہے جس کی وجہ سے انھیں جاری رکھا گیا ہے۔ اس دنیا میں اکثر کسی کام کو اس کے بالواسطہ فائدے کی خاطر کرنا پڑتا ہے ، خواہ بظاہر اس سے کوئی براہ راست فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو۔ کراچی سے قندھار کا سفر یمن ایئر لائنز کی فلائٹ ۵۵۷ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں خلیج ٹائمز (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۹) پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ انگریزی روزنامہ دوبئی سے نکلتا ہے۔ اس میں ایک ہندوستانی مسلمان (مقیم راس الخیمہ) کا مضمون تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ قیادت کے فقدان (Lack of leadership) کا مسئلہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page