یمن کا سفر
Urdu book, p. 436
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر میرے نزدیک یہ ادھوری بات ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مخصوص اسباب کی بنا پر ہندوستان کے مسلمانوں کی نفسیات کچھ اس طرح کی ہوگئی ہے کہ لفظی جوشش دکھانے والے سطحی لیڈروں کی باتیں ہی ان کو اپیل کرتی ہیں جو مسلمانوں کو بربادی کے سوا کہیں اور نہ لے جاسکیں ۔ اس کے مقابلہ میں جو رہنما سنجیدہ اور تعمیری بات کریں وہ مسلم عوام کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں کرتے مسلمانوں کی یہی بے شعوری ان کا اصل مسئلہ ہے ، ہندوستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا مسئلہ فقدان شعور ہے نہ کہ فقدان قیادت ۔ کراچی سے یمن کے سفر میں جہاز کے اندر ایک عرب مسافر سے ملاقات ہوئی ۔ ان کے ساتھ کویت کا عربی اخبار الانباء ( ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ ) تھا ۔ اس کے آخری صفحہ پر خالد قطمہ کے قلم سے ایک دلچسپ مضمون درج تھا جس کا عنوان تھا وَ لَوْ ( اور اگر ) ۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ عرب ممالک کے ہوائی اڈوں پر " مخدرات " سے بھی زیادہ جس چیز کی جانچ ہوتی ہے اور جس کو عرب امن اور مقاصد امت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار ( خطر مسلح ) سمجھا جاتا ہے وہ " کتاب " ہے۔ اگر آپ کسی ہوائی اڈہ سے گزریں تو جانچ والا آدمی آپ کے حقيبة کو کھولے گا اور اس کو ٹٹول کر دیکھے گا ۔ اگر وہ اس میں کوئی کتاب پاگیا تو وہ اس کو اس طرح لے گا جیسے کہ اس نے کوئی ٹائم بم دیکھ لیا ہو ( کأنہ شاہد قنبلة موقوتة ) اس کے بعد آپ نہایت بے چارگی کے ساتھ اس کے فیصلہ کا انتظار کریں گے کہ وہ آپ کی کتاب کو ممنوع الدخول قرار دیتا ہے یا آپ اور آپ کی کتاب دونوں کو ۔ مضمون نگار نے اپنا بخار نظام (حکومت) پر اتارا تھا۔ مگر میرے نزدیک اس کی ساری ذمہ داری ان نام نہاد مسلم مفکرین پر ہے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تفسیر کرکے اسلامی دعوت کو سیاسی انقلاب کے ہم معنی بنادیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں کے حکمراں اب " اسلامی دعوت " کا نام لینے والوں کو سیاسی اپوزیشن کے طور پر دیکھتے ہیں اور خطرہ سمجھ کر فوراً انہیں دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلم مفکرین کی اس خود ساختہ تشریح نے اب مسلم ملکوں میں اسلام کا کام کرنے کو بڑی حد تک ناممکن بنادیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اگر غیر سیاسی اسلام پیش کرتے جس کی ایک مثال تبلیغی جماعت کی صورت میں نظر آتی ہے تو مسلم داعی کو مسلم ملکوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا اور کام کے تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader