Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 440

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات میں آتا ہے کہ یمن کا وفد مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اتکم ھل الیمن ۔ ھم ارق افئدۃً والین قلوبا۔ الایمان یمان والفقه یمان والحكمة يمانية (بخاری ومسلم) یعنی تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں۔ وہ رقیق القلب ہیں اور نرم دل ہیں۔ ایمان تو یمن والوں کا ہے، سمجھ یمن والوں کی ہے، حکمت یمنی حکمت ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایمان اور فقہ اور حکمت ہمیشہ کے لیے یمن والوں کی خصوصیت ہے۔ اس کا مقصد دراصل ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کے لیے آئے۔ یہ ایک وقتی کلمہ ہے نہ کہ کوئی ابدی قانون۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہ جانیں، وہ احادیث کو سمجھنے میں سخت غلطی کریں گے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۸۵ میں " اصحاب اخدود" کا ذکر ہے۔ یعنی قدیم زمانہ کے کچھ خدا پرست جن کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھے میں ڈال کر وحشیانہ طریقہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا (البروج) اصحاب اخدود کون لوگ تھے ، ان کے بارہ میں قطیت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں۔ تاہم ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح کے پیرووں کے ساتھ یمن میں ہوا۔ یہ غالباً ۵۲۳ ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت یمن میں ایک یہودی بادشاہ ذونواس کی حکومت تھی۔ اس نے یمن کے عیسائیوں کو یہودی بنانا چاہا۔ وہ لوگ اس کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ یہودی بادشاہ ان پر سخت برہم ہوا اس نے کچھ عیسائیوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد ۲۰ ہزار بتائی جاتی ہے۔ روایات بتاتی ہیں کہ ان یمنی عیسائیوں میں سے ایک شخص (ذونعلبان) بھاگ کر باہر چلا گیا ۔ اس نے روم کے عیسائی بادشاہ قیصر اور حبش کے عیسائی حکمران نجاشی کو اس ظالمانہ واقعہ کی اطلاع دی۔ اس کے بعد حبش کی حکومت نے اپنے فوجی سردار ارباط کی رہنمائی میں ۷ ہزار حبشیوں کی فوج تیار کی۔ رومی سلطنت نے بحری بیڑہ دیا جس کے ذریعہ فوج یمن کے ساحل پر اتاری گئی ۔ اس نے لڑ کر ذونواس کی فوج کو شکست دی اور ذونواس کو قتل ر ڈالا ۔ اس طرح یمن سے یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page