Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 441

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ ۶۲۵ ء میں پیش آیا ۔ اس کے بعد یمن پر حبش کی عیسائی حکومت کا اقتدار قائم ہو گیا ۔ ظلم ہر شخص کے لیے ممکن ہے ، مگر ظلم پر کھڑا ہونا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ۔ اریاط کے بعد ابرہہ یمن کا حکمران ہوا۔ یہی ابرہہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کچھ پہلے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ آیا تھا تا کہ کعبہ کو ڈھا دے ۔ اس نے یمن کے دار السلطنت صنعاء میں ایک بہت بڑا کلیسا (Ekklesia) بنوایا جیسا اب تک کسی عیسائی نے نہیں بنوایا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک رکنے والا نہیں ہوں جب تک عرب کے حج کو اس کی طرف پھیر نہ دوں (لستُ بمنْتَه حتى اصرف السياحج العرب ، سيرة ابن هشام، اول ۴۳) روایات کے مطابق غالباً ۵۷۰ ء میں وہ ۶۰ ہزار فوج کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی فوج میں ایک درجن بڑے بڑے ہاتھی بھی شامل تھے۔ اس لیے اس کو اصحاب فیل کہا گیا ہے مگر جیسا کہ سورہ الفیل میں بتایا گیا ہے ، ابرہہ اور اس کا لشکر خدائی عذاب کے تحت تباہ ہو گیا اور مکہ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ابنِ سبا جس کے فتنوں نے اسلامی تاریخ کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ وہ اسی صنعاء کا رہنے والا تھا۔ وہ ایک یہودی تھا ۔ اس کا پورا نام عبداللہ بن سبا المعروف بہ ابن السودار تھا وہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کا ہم عصر تھا۔ اس نے یہ نظریہ نکالا کہ ہر پیغمبر کا ایک وصی ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا خلیفہ بنتا ہے ۔ محمدﷺ کے وصی علی ابن ابی طالب ہیں۔ جس طرح محمد خاتم الانبیاء ہیں ، اسی طرح علی خاتم الاوصیاء ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ محمدﷺ کی وفات کے بعد لوگوں نے علی کے سوا دوسروں کو خلیفہ بن کر سخت غلطی کی ہے ۔ اب سب کو چاہیے کہ موجودہ خلیفہ (عثمانؓ) کو قتل یا معزول کر دیں اور ان کی جگہ علی کو خلیفہ بنائیں ۔ سبا، میں اس فتنہ کو پھیلانے کے زیادہ مواقع نہیں تھے ۔ چنانچہ وہ صنعاء کو چھوڑ کر مدینہ آگیا ۔ یہاں کے حالات بھی اس کے موافق نہ تھے۔ اس کے بعد وہ بصرہ گیا ۔ پھر کوفہ اور دمشق پہنچا۔ لیکن ہر جگہ کے حالات اس کو اپنے خلاف نظر آئے ۔ آخر میں وہ مصر پہنچا۔ اس وقت عبداللہ بن سعد ابن ابی سرح مصر کے گورنر تھے ، عبداللہ کی بعض باتوں سے یہاں کے لوگوں کو کچھ شکایات تھیں ۔ انھیں شکایتوں نے ابن سبا کو مہر میں کام کرنے کا موقع دے دیا۔ اس نے لوگوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page