Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 442

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبات کو ابھار کر مصر میں ایک عام شورش برپا کردی جس کا آخری نتیجہ حضرت عثمان کا قتل تھا۔ حکمرانوں کے خلاف ایجی ٹیشن کی مہم چلانا اور سیاسی شکایتیوں کو بیان کر کے عوام کو بھڑکانا، یہ تمام تر ابن سبا کی سنت ہے۔ یہ سنت آج بھی مسلمانوں میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ زمانہ میں جن مسلم رہنماؤں نے عمومی شہرت حاصل کی، وہ تقریباً یہ سب کے سب وہی ہیں جو ابن سبا کے اس مجرب نسخہ کو استعمال کر کے شہرت اور مقبولیت کے مقام تک پہنچے ہیں۔ یمن میں ایک چھوٹا سا قصبہ مارب کے نام سے آباد ہے۔ کسی وقت یہاں عالی شان شہر قائم تھا۔ قرآن میں قوم سبا کا ذکر ہے۔ اس کا مرکز یمن کا قدیم شہر مارب تھا۔ اس کا زمانہ ۱۵ قبلی مسیح کے بعد سے ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ تجارت اور زراعت میں غیر معمولی ترقی کی وجہ سے اس وقت وہ دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر آج دنیا کے اقتصادی نقشہ پر یمن کو کوئی مقابل ذکر مقام حاصل نہیں۔ سبا کی قوم جنوبی عرب پر حکمراں تھی۔ تاریخ میں ان کو سبائی (Sabaean) کہا جاتا ہے۔ (1/1044) ساتویں صدی عیسوی میں یہ قوم اپنے آخری عروج پر تھی۔ اس نے سد مارب (Marib Dam) بنا کر اپنی زراعت کو زبردست ترقی دی جس کا ذکر قرآن میں سورہ سبا میں آیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت اتنا سرسبز اور خوش حال ہو گیا کہ مورخین اس کو دورت دیم کا پیرس کہتے ہیں۔ (Paris of ancient world) سد مارب تقریباً چودہ میٹر اونچا اور ۹۰۰ میٹر لمبا تھا۔ وہ ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یمن کی آبپاشی کا ذریعہ بنا رہا۔ (5/441) دور قدیم کے اعتبار سے وہ اتنا شاندار تھا کہ قوم سبا کے لوگ اس پر فخر کرتے تھے ؛ حتی کہ اپنی ترقی اور خوش حالی کی وجہ سے ان میں سرکشی پیدا ہوگئی۔ اس وقت چھیٹی صدی عیسوی میں بند کے اندر شگاف ظاہر ہوئے۔ یہ ابتدائی وارننگ تھی ۔ مگر قوم سبا اس سے ہوش میں نہیں آئی۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں سخت زلزلہ آیا اور بند سمیت پورا علاقہ ویران ہوگیا۔ صنعار ایک تاریخی شہر ہے جو یمن کی راجدھانی ہے۔ صغار حضرت علیؓ کے زمانہ میں ۶۳۲ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page