ریاض کا سفر
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظ استعمال ہوتا ہے ، وغیرہ ۔ اس سلسلہ میں دوسری مشکل تلفظ کی ہے۔ مثلاً موجودہ عرب اکثرق کا تلفظ گ سے کرتے ہیں ۔ یعنی وہ اقول لك (میں آپ سے کہتا ہوں) کو اگ ل لات بولیں گے۔ اسی طرح مثلاً وہ الاستقلال (آزادی) کو اس طرح بولتے ہیں کہ وہ الاستقلال سنائی دیتا ہے۔ چنانچہ اکثر ایسی صورت پیش آتی ہے کہ ہندوستان کا ایک آدمی کسی لفظ کے معنی جانتے ہوئے عربوں کی گفتگو کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ کبھی لفظ کے دہرے مفہوم کی وجہ سے اور کبھی تلفظ کے فرق کی وجہ سے ۔ اردو داں مسلمانوں کی انفرادیت پسندی کی یہ عجیب قیمت ہے جو ان کو خود مسلم دنیا میں دینی پڑتی ہے۔ ۲۷ اگست کو لیبیا میں ہندوستان کے سفیر مسٹر ارجن اسرا نی سے ملاقات ہوئی۔ نہایت ذہین اور با اخلاق آدمی ہیں۔ بہت شریفانہ طور پر ملے اور اس کے بعد مزید تفصیلی ملاقات کی غرض سے ۲۹ اگست کو با اصرار اپنے گھر پر کھانے کی دعوت کی۔ کھانے کی میز پر سفیر صاحب کے ساتھ جناب عبد الخالق دہلوی بھی تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک دل چسپ اور مفید گفتگو رہی۔ سفیر صاحب نے اسلامیات کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ میں نے چند مپفلٹ ان کی خدمت میں پیش کئے۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ عرب سے ہوئی ۔ وہ ایک ملک میں اچھے عہدہ پر ہیں ۔ ان کو میں جانتا تھا ۔ مگر مجھ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ہمارے مشن سے کس حد تک قریب ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میری عربی کتابیں انھوں نے بار بار پڑھی ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی اردو کتابوں اور الرسالہ کے بہت سے مضامین کو ہندوستانی یا پاکستانی عربی دانوں کے ذریعہ ترجمہ کرا کر سمجھا ہے ۔ اب وہ ہمارے مشن کو پوری طرح پاگے ہیں اور صدقِ صدا سے متفق ہیں۔ مذکورہ عرب بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے ملک میں لوگوں کا معاملہ آپ کے ساتھ کیا ہے۔ میں نے کچھ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک طبقہ ہمارا سخت مخالف ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس پر تل گیا ہے کہ ہماری جڑ اکھاڑ کر اس مشن کا خاتمہ کر دے۔ یہ لوگ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کر رہے ہیں۔ ہماری معاشیات کو برباد کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ ہم کو اتنا زیادہ پریشان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم تنگ آکر اس مشن کو چھوڑ دیں۔ یہ سن کر عرب بزرگ بولے ۔ آپ کا یہ اسلامی مشن بالآخر ایک تاریخ بننے والا ہے۔ پھر آئندہ بننے والی تاریخ میں یہ لوگ اپنا نام آخر کس خانہ میں لکھوانا چاہتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader