ریاض کا سفر
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۹ اگست کو راقم الحروف کے اعزاز میں فندق باب المدینہ میں ایک عشائیہ دیا گیا۔ اس عشائیہ میں وزراء اور سفراء شریک تھے، طرابلس میں ہندوستان کے سفیر مسٹر ارجن اسرانی نے بھی شرکت کی۔ اس قسم کی تقریب شہر کا رمو تمر میں راقم الحروف کے سوا اور کسی کے لئے منعقد نہیں کی گئی۔ دوسرے معززین کے علاوہ ڈاکٹر طاہر محمد الشوھدی (الامین العام للهيئة المشتركة لتأسيس المراكز الثقافية الاسلامیہ) بھی اس موقع پر موجود تھے۔ طرابلس کا سوق الجمع (سپر بازار) دیکھا۔ اس طرح کے یہاں چار بازار ہیں، نئی دہلی کے سپر بازار کے مقابلہ میں یہاں کے سوق الجمع کی عمارت کافی زیادہ شاندار رکھتی ۔ کمی منزلہ عمارت میں خود کار سیڑھیوں کا نہایت عمدہ انتظام تھا۔ حساب کتاب کرنے کے لئے جدید طرز کی درآمد شدہ مشینیں لگی ہوئی تھیں ۔ تاہم خریداری اور سامان کے اعتبار سے وہ نئی دہلی کے سپر بازار سے کم نظر آیا ، اس فرق کے ساتھ کہ دہلی میں تمام سامان ملکی ہوتا ہے اور یہاں تمام سامان باہر سے درآمد کیا ہوا۔ طرابلس کا متحف (میوزیم) کافی بڑا ہے۔ مگر وہ ترکوں کے ایک قدیم قلعہ میں قائم کیا گیا ہے اس لئے عمارت کے اعتبار سے اس میں وہ خوبیاں نہیں ہیں جو اس عمارت میں ہوتی ہیں جو خاص طور پر میوزیم کے مقصد سے بنائی گئی ہو۔ مثال کے طور پر لکھنو کا میوزیم مقابلہ کافی چھوٹا ہونے کے باوجود عمارت کے اعتبار سے طرابلس کے میوزیم سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ ایک ہندوستانی عالم کے ساتھ عرب دنیا میں بعض اوقات یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ وہ بظاہر عربی بولتا ہے مگر عرب اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عربی لفظ کو اس کے اردو مفہوم میں استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ عربی زبان کے بہت سے الفاظ اردو زبان میں رائج ہیں۔ اس لحاظ سے اردو دانی کو عربی دانی کے لئے کار آمد ہونا چاہئے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی کے اکثر الفاظ کے معنی اردو میں آکر بدل گئے ہیں۔ مثلاً اردو میں جس چیز کو ہم انقلاب کہتے ہیں ، اس کے لئے عربی میں ثورہ کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں ثورہ کے معنی ریوولیوشن کے ہیں اس کے مقابلہ میں انقلاب کا لفظ اس مفہوم کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو انگریزی میں (coup) کہتے ہیں۔ ہندوستان کے ایک مصنف نے اپنی کتاب کا نام الاقدار الاسلامیہ رکھا ہے۔ اس سے ان کی مراد اسلامک ویلو ہے۔ مگر ویلو (value) کے لئے عربی میں قیمت کا لفظ استعمال ہوتا ہے نہ کہ قدر کا۔ اگر چہ قیمت اور قدر دونوں ہی عربی الفاظ ہیں۔ تاہم عربی میں اس کو اقیم الاسلامیہ کہیں گے نہ کہ الاقدار الاسلامیہ ۔ وہ چیز جس کو اردو میں استحصال کہا جاتا ہے اس کے لئے عربی میں استغلال کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader