Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 450

By Maulana Wahiduddin Khan

دفن تھے یا تاریخ کے پردہ میں چھپ گیے تھے۔ حتیٰ کہ اب لوگ آج کے ”یمن “کو جانتےتھے، وہ قدیم ”یمن“ سے ناواقف ہو چکےتھے۔ علم الآثار کے ماہرین گویا موجودہ زمانہ میں خدائی کارندےبن کر ظاہر ہوئے اور بڑھتےہوئے سیاحتی ذوق نے اس کی مزدوری قیمت ادا کی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ خدا کا فیصلہ جو تاریخ کے گرد و غبار میں چھپ گیا تھا، اس کو کھود کر اور تحقیق کر کے نکالا گیا اور عالمی مشاہدہ کے لیے اس کو دنیا کے سامنے رکھ دیا گیا۔ تاہم یہ پورا کام غیرمسلموں کے ذریعہ انجام پایا ہے۔ اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ یکم نومبر کی دوپہر کو یہاں کی یونیورسٹی دکھائی گئی۔ اجتماعی طور پر تمام سفر کاروہاں لے جائے گیے۔ یہ ایک مکمل یونیورسٹی ہے جہاں تمام شعبے قائم ہیں۔ ذریعہ تعلیم عربی کے ساتھ انگریزی بھی ہے۔ اس کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں کلاس جاری تھی۔ استاد نے بتایا کہ یہ ” ٹرافک انجینرنگ “کی کلاس ہے۔ انھوں نے عربی میں اپنے مضمون کا تعارف شروع کیا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ عربی نہیں جانتے اس لیے انگریزی ترجمہ ہونا چاہیے۔ استاد نے اس کے فوراً بعد اپنی بات کو انگریزی میں کہنا شروع کیا۔ جس روانی کے ساتھ وہ عربی میں بول رہے تھے، اسی روانی کے ساتھ انگریزی میں بولنے لگے، اس سے اندازہ ہوا کہ یہاں جو اساتذہ ہیں وہ لائق ہیں اور اپنے مضمون پر اچھی طرح تیار ہیں۔ یمن کے وسائل زیادہ نہیں ہیں۔ ایک بڑی زیر تعمیر عمارت دکھائی گئی۔ یہ میڈیکل کالج تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ پورا کالج کویت کے تعاون کے تحت بنایا جا رہا ہے۔ یہی حال دوسرے ترقیاتی امور کا بھی ہے۔ تاہم تیل کی تلاش یہاں بڑے پیمانہ پر جاری ہے اگر تیل دریافت ہو گیا تو یمن بھی دوسرے خلیجی ممالک کی طرح خوش حال ملک بن جائے گا ۔ صنعار کے ماہنامہ الارشاد اور روزنامہ الثورہ نے انٹرویو لیا۔ الارشاد کا انٹرویو تفصیلی تھا۔ وقت کی کمی کے باعث الثورہ کو میں صرف مختصر انٹرویو دے سکا۔ ٹیلی وزن کے لوگ بھی اصرار کر رہے تھے۔ مگر وقت کی کمی کے باعث میں ٹیلی وزن کو انٹرویو نہ دے سکا۔ الارشاد کا انٹرویو اس کے رئیس تحریر د۔ عبداللہ الواسطی نے لیا۔ انھوں نے گفت گو کا آغاز اس جملہ سے کیا: الشيخ وحيدالدين، نرحب بكم في هذا البلد الذي هو بلد كل مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page