یمن کا سفر
Urdu book, p. 451
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انھوں نے جو سوالات کیے ان میں سے کچھ یہ تھے : ا - هل تتفضل باعطائنا تعريفا موجزا عن حياتك ۲ - كم هي المؤلفات التي صدرت لكم وهل تتفضلون كتابا منها ۳ - هل لكم من تعليق على الصحوة الاسلامية القائمة اليوم ۴ - ماذا تتوقعون لمستقبل المسامين في الهند ۵ - بالنسبة لجاريتكم الباستان متى تتوقعون سيفوز في الانتخاب المقبلة آخری سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرے اندازہ کے مطابق پاکستان کے آنے والے الکشن میں بھٹو پارٹی کامیاب ہوگی اور وہی حکومت بنائے گی ۔ یہ بات میں نے یکم نومبر ۱۹۸۸ کو کہی تھی ، جب کہ پاکستان کا الکشن ۱۶ نومبر کو ہوا۔ یمن کی وزارت اوقات کی طرف سے ان کی مطبوعات بطور ہدیہ دی گئیں ۔ ان میں سے ایک کتاب القانون المدني ( المعاملات الشرعية ) تھی جس کو علما کی ایک کمیٹی نے مرتب کیا ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں معاملات سے متعلق شرعی قوانین کو دفعہ وار مرتب کیا گیا ہے ۔ اس میں تیرہ سو سے زیادہ دفعات ہیں۔ کتاب اصولی قوانین ( القواعد الاصولية ) سے شروع ہوتی ہے ، اور اموال اور جائداد کے غصب سے متعلق شرعی احکام پر ختم ہوتی ہے ۔ مادہ ۱۲۸۶ میں کہا گیا ہے کہ شریعت کے مطابق غصب حرام ہے اور ظلم ہے ( ان الغصب حرام وظلم ) اس میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ جس شخص نے ایک بالشت کے برابر زمین غصب کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں پہنائے گا ( من غصب شبرا أطوقـــــه يوم القيامة الى سبع اراضين ) عبدالکریم بن عبداللہ العرشی (نائب رئیس الجمهوریہ) نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ یہ قانون بلاشبہ بہترین چیز ہے جو عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے اور خصوصی طور اسلامی امت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے ( ان هذا القانون لخير عمل يقدم للبشرية عامة وللامة الاسلامية خاصة ) یہ کتاب شرعی احکام کی قانونی ترتیب ( تقنين احكام الشريعة الاسلامية ) کی ایک کوشش ہے جس کی موجودہ زمانہ میں سخت ضرورت ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader