یمن کا سفر
Urdu book, p. 455
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ پاکستان کے علما عملی طور پر صرف اس پوزیشن میں تھے کہ وہ پاکستان کے لوگوں میں اسلامی شعور کو بیدار کریں۔ مگر پاکستان کے بنتے ہی وہ اسلامی حکومت قائم کرو کا نعرہ لے کر کھڑے ہو گئے۔ وہ ہر حکمراں کو مخالف اسلام قرار دے کر اس کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم چلاتے رہے۔ علما کی یہی وہ نادانی ہے جس نے ہم سال بیتنے کے باوجود پاکستان میں اسلام کو آنے نہیں دیا۔ اس پر جناب محمد چودھری نے اپنا ایک اور لطیفہ بیان کیا۔ انھوں نے ایک بار کسی سے کہا کہ وہ ہر شخص کا مقابلہ کر سکتے ہیں، مگر وہ مولوی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سننے والے نے پوچھا کہ کیوں۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی فوراً ہی چھلانگ لگا کر اپنی گاڑی پانچویں گیر میں چلا دے گا : He must at once jump into the 5th gear. ایک صاحب جو یورپ سے آئے تھے ، مگر اصلاً وہ افغانی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ۱۵ ملین افغانی باشندے افغانستان میں ہیں۔ ۳ ملین افغانی پاکستان میں ہیں اور ۲ ملین ایران میں۔ پاکستان کے ایک صاحب نے بتایا کہ افغانستان سے جو لوگ پاکستان گیے ، ان کی بڑی تعداد اب افغانستان جانے میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ کیوں کہ انھوں نے پاکستان میں کافی تجارتیں پھیلالی ہیں جن کی امید وہ موجودہ افغانستان میں نہیں رکھتے۔ اسی طرح بہت سے افغانی نوجوانوں نے اپنے ملک سے نکل کر تعلیم حاصل کی۔ اب وہ یورپ اور امریکہ میں اچھی ملازمتوں میں ہیں ، وہ بھی اس میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے کہ افغانستان واپس جائیں جو مسلسل جنگوں کے نتیجہ میں برباد ہو چکا ہے۔ افریقہ کے ایک صاحب نے کانفرنس میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان اپنے سیاسی عقیدہ کی وجہ سے اپنے مذہبی حقوق سے روکے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایرانیوں کی مثال دی کہ سعودی عرب نے ان کو حج سے روک دیا ہے۔ چنانچہ اس سال ایرانی حاجی مکہ نہ جاسکے۔ کویت کے ایک بزرگ نے فوری طور پر اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیان واقعہ کے مطابق نہیں ہے۔ سعودی حکومت نے ہرگز ایسا نہیں کیا کہ وہ ایرانیوں کو حج سے روکے۔ ان کو بدستور اجازت حاصل تھی۔ یہ خود ایرانی حجھھوں نے احتجاج کے نام پر اس سال حج کا سفر نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader