یمن کا سفر
Urdu book, p. 456
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک واقعہ صحیح ہونے کے باوجود اس کی توجیہہ حد درجہ غلط ہوسکتی ہے ۔ مذکورہ مثال میں ایک واقعہ جس کے ذمہ دار حقیقتاً ایرانی تھے ، اس کو ایک شخص نے غلط طور پر سعودی عرب کی طرف منسوب کر دیا۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی بیان دینے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل تحقیق کرو۔ ۴ نومبر کو مجھے فجر سے پہلے واپس روانہ ہونا تھا تاکہ وقت پر ہوائی اڈہ پہنچ کر ساڑھے پانچ بجے کے جہاز کو پکڑ سکوں ۔ ہوٹل کے استقبالیہ میں شام کو میں نے لکھوادیا کہ صبح 3 بجے مجھے جگا دیا جائے ۔ رات کو میں سورہا تھا کہ ٹھیک وقت پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔ یہ ہوٹل والوں کی طرف سے ویک اپ کال (Wake-up-call) تھی ۔ گویا کہ آواز دینے والا کہہ رہا تھا کہ اٹھ جاؤ۔ اب سونے کا وقت ختم ہوگیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ صورِ اسرافیل بھی اسی قسم کا ایک ویک اپ کال ہوگا۔ آج تمام لوگ سورہے ہیں ۔ کسی کو آنے والے دن کا احساس نہیں ۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ اسرافیل کا صور گونج اٹھے ۔ کیسی عجیب ہوگی یہ خدائی پکار ، اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس خدائی پکار سے غافل ہو کر بے خبر سورہے ہیں ۔ میں سفر میں ہمیشہ مختصر سامان رکھتا ہوں ۔ عام طور پر صرف ایک چھوٹا ہینڈ بیگ میرے ساتھ ہوتا ہے ۔ صنعار سے ۴ نومبر کی صبح کو ہوٹل سے نکلا تو ہمارے یمنی گائیڈ نے پوچھا آپ کا سامان ۔ میں نے اپنے ہاتھ کا بیگ دکھاتے ہوئے کہا کہ بس یہی میرا سامان ہے ، اس کے سوا اور میرا کوئی لگیج نہیں ۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا : افلح من خف متاعه (وہ شخص کامیاب رہا جس کا سامان کم ہو ) یہ گویا اسلامی تہذیب کا کلمہ تھا جو ان کی زبان سے نکلا ۔ جزیرہ عرب پر اسلام کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ عربوں کی زبان اور ان کے انداز میں ابھی تک اس کے نشانات واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا باہمی اختلاف اگر کسی طرح ختم ہو جائے تو اس کے بعد ان کے پاس جو کچھ بچے گا وہ وہی اسلامی تہذیب ہوگی جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر عربی کے ذریعہ انھیں ملی تھی۔ صنعار سے کراچی کا سفر پاکستان ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۶۷ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader