یمن کا سفر
Urdu book, p. 457
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستانی اخبارات پڑھنے کو ملے ۔ روزنامہ حریت (۳ نومبر ۱۹۸۸) کی چند سرخیاں یہ تھیں : کوئی جماعت بھی جیتے ، حکومتِ انتخابی نتائج کو تسلیم کرے گی ۔ مصطفیٰ صادق ۱۴ نومبر عوام دشمن قوتوں کی شکست کا دن ہے ۔ بیگم نصرت بھٹو پاکستانی عوام اسلام کے سوا کسی اور انزیم کو تسلیم نہیں کرتے ۔ مولانا نورانی حکمرانوں کے لیے انتخابات کے بعد انتقالِ اقتدار کے سوا کوئی راہ نہیں۔ مارشل اصغر خاں اسلامی جمہوری اتحاد برسرِاقتدار آکر ظالموں کے ہاتھ کاٹ دے گا ۔ نواز شریف انگریزی روزنامہ مارننگ نیوز (۳ نومبر ۱۹۸۸) کے صفحہ اول کی ایک سرخی یہ تھی : Islamic forces will emerge triumphant (Fazle Haq.) روزنامہ جنگ (۳ نومبر ۱۹۸۸) بھٹو پارٹی کے تذکرے سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں یا تو بھٹو پارٹی کے لیڈروں کی تقریریں تھیں۔ یا مخالف پارٹی کی طرف سے بھٹو پارٹی کی مذمت۔ ایسا محسوس ہوا جیسے تمام دوسری جماعتوں کے اوپر بھٹو پارٹی کا بوس بن کر سوار ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ اپنے کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کر رہے ہیں ۔ اخبار جنگ میں جماعتِ اسلامی کے پروفیسر عبد الغفور کا ایک احتجاجی خط تھا جس میں انھوں نے اخبار جنگ سے شکایت کی تھی کہ " پاکستان کی انتخابی مہم میں جنگ کے نمائندے متعصبانہ اور جانبدارانہ انداز میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ وہ اسلامی اتحاد کے اجتماعات گھٹا کر شائع کرتے ہیں یا بالکل شائع نہیں کرتے ۔ صنعار سے کراچی تک بنگلہ دیش کے ایک صاحب کا ساتھ رہا۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بنگلہ دیش کے کئی ہزار آدمی مختلف حیثیتوں سے کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ۱۹۷۱ میں پاکستان کے خلاف "آزاد بنگلہ دیش" کا جھنڈا اٹھایا تھا، مگر آزادی کے بعد جب انھوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش میں کام کے مواقع نہیں ہیں تو وہ پاکستان آکر یہاں کام کرنے لگے ۔ اسی طرح بہت سے بنگلہ دیشی مسلمان ہیں جو یورپ اور امریکہ جاکر اپنے لیے کام تلاش کر رہے ہیں ۔ "سونار بنگلہ" جب نعرہ تھا تو ہر آدمی کو سونار بنگلہ سے دل چسپی تھی ۔ مگر سونار بنگلہ جب واقعہ بن گیا تو اب کسی کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader