Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 460

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ وہ حقائق کے بجائے امانی میں جیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاملات میں صحیح رائے قائم نہیں کر پاتے۔ پاکستان کے "اسلامی مفکرین" ۴۰ سال تک یہ کہتے رہے کہ پاکستان کے سارے مسلمان اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ صرف چند سیاسی حکمران ہیں جو اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو اگر آزادانہ اظہار رائے کا موقع ملے تو وہ یقینی طور پر اسلامی نظام کے حق میں رائے دیں گے ۔ مگر پہلے ہی آزادانہ انتخاب نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا۔ اسی بے بصیرتی کی بنا پر ایسا ہوا کہ پاکستان کے قیام (۱۹۴۷) کے بعد سے ۴۰ سال تک ان کی ساری کوشش حکمرانوں کو سیاسی اقتدار سے ہٹانے یا انہیں پھانسی دینے پر مرکوز رہی۔ مگر حکمرانوں کو ہٹانے کے بعد جب عوامی الیکشن ہوا تو معلوم ہوا کہ اسلامی نظام کی راہ میں اصل رکاوٹ حکمران نہیں بلکہ خود پاکستانی عوام تھے۔ اگر یہ مسلم رہنما صحیح بصیرت کے حامل ہوتے تو ۱۹۴۷ کے بعد وہ اپنی ساری کوشش عوام کا ذہن بنانے میں لگا دیتے۔ مگر اپنی غلط تشخیص کی بنا پر انھوں نے اپنی ساری کوشش حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں لگا دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وقت اور طاقت کا بے شمار سرمایہ صرف کرنے کے باوجود کوئی مثبت فائدہ ان کے حصہ میں نہ آسکا ۔ پاکستان ایئر لائنز پر آج (۴ نومبر ۱۹۸۸) کے پاکستانی اخبارات تھے۔ ہر ایک میں صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی : "مالدیپ پر ہندوستانی فوج کا حملہ " اس کے ساتھ ہر اخبار میں ، ایک یا دوسرے لفظوں میں یہ بات کہتی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور پاکستان میں اسلام کا نظام ہی نافذ ہوگا۔ میں نے سوچا کہ یہ اخبارات اگر یہ لکھتے تو زیادہ صحیح ہوتا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قومی دھوم کے لیے بنا ہے اور پاکستان میں اسلام کے نام پر قومی دھوم جاری رہے گی۔ اور اس کا ایک ثبوت مذکورہ بالا خبر ہے۔ اگر پاکستان کے صحافیوں میں اسلام کا مزاج ہوتا تو وہ اس خبر کو اس کی صحیح شکل میں چھاپتے۔ مگر اس کو انھوں نے اپنے مخصوص قومی سانچے میں ڈھال کر شائع کیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایک مالدیپی تاجر (عبد اللہ لطفی) نے کولمبو کے پاس ایک پولٹری فارم میں اپنا مرکز بنایا۔ وہاں اس نے لنکا کے دہشت گرد نوجوانوں کو بھرتی کر کے ایک دستہ تیار کیا۔ ان کو کشتیوں کے ذریعہ اس نے مالدیپ میں اتارا اور مالدیپ کے صدر مامون عبد القیوم کی رہائش گاہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page