Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 461

By Maulana Wahiduddin Khan

پر حملہ کر دیا۔ اس وقت مامون عبد القيوم نے پڑوسی ہندوستان سے مدد کی درخواست کی۔ ہندوستان سے بذریعہ ہوائی جہاز فوج بھیجی گئی جس نے بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ واضح ہو کہ مالدیپ کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے ۔ ۴ نومبر کو میں پیشگی اطلاع کے بغیر دہلی پہنچا تھا۔ اس لیے یہ معلوم تھا کہ ہمارے دفتر کا کوئی آدمی ایئر پورٹ پر موجود نہ ہوگا۔ میں چاہتا تھا کہ ٹیلی فون کے ذریعہ دفتر میں اپنی آمد کی اطلاع دیدوں، تاکہ وہاں سے کوئی شخص آجاۓ ۔ مگر ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد آدمی کو امیگریشن کی کھڑکی پر لائن لگانی پڑتی ہے اور یہاں کافی وقت لگ جاتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پبلک ٹیلی فون باہر کے حصہ میں تھا۔ میں نے چاہا کہ امیگریشن کی لائن میں لگنے سے پہلے میں ٹیلی فون کر دوں تاکہ جب میں یہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلوں ، اس وقت تک دفتر سے کوئی شخص آچکا ہو۔ اندر صرف پولیس کا ٹیلی فون تھا۔ میں پولیس کے دفتر میں گیا اور ضرورت بیان کی، پولیس کا آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ دفتر کا ٹیلی فون ہے ۔ آپ پبلک بوتھ پر جا کر ٹیلی فون کریں ۔ مگر اس نے میری ضرورت محسوس کی اور فوراً ٹیلی فون کو میری طرف بڑھاتے ہوۓ کہا کہ کر لیجیے ۔ پہلے زیرو گھمائیے ، اس کے بعد اپنا نمبر ڈائل کیجیے، اس نے کہا۔ چنانچہ میں نے پولیس کے دفتر سے ٹیلی فون کر دیا۔ جب میں اندر کی کارروائیوں سے فارغ ہو کر باہر نکلا، تو وہاں دفتر کا آدمی بھی آچکا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اپنی ضرورت کو معقول طور پر پیش کر سکیں تو فریق ثانی خود اپنے ضمیر کے تحت اس کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے ، خواہ وہ پولیس کا آدمی ہو یا غیر پولیس کا آدمی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page