Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 470

By Maulana Wahiduddin Khan

رکی ۔ پولیس افسر مجھ کو لے کر اندر داخل ہوا ۔ یہ اس کا دفتر تھا۔ یہاں اس نے مجھے کرسی پر بٹھایا۔ اور مشین پر میرے پاسپورٹ کے ہر صفحہ کا فوٹو لینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے پولیس افسر سے کہا: Am I under arrest? اس نے مسکرا کر کہا کہ کہانہیں ۔ اب تک ہم دونوں خاموش تھے ۔ اب باتیں ہونے لگیں۔ میں نے اسلامی مرکز کا تعارف کرایا تو وہ مجھ سے بہت مانوس ہو گیا ۔ اس نے اپنا نام مسٹر لوئی (My Louis) بتایا۔ اس پولیس افسر کی کار پر بیٹھے بیٹھے میں نے پہلی بار نیو یارک شہر کی ایک جھلک دیکھی۔ تاہم کسی نامعلوم ہدایت کی بنا پر اس نے میرا پاسپورٹ مجھے نہیں دیا۔ وہ مجھ کو لے کر دوبارہ ایرپورٹ آیا اور خود ہی ائیر انڈیا کی پہلی فلائٹ سے میری سیٹ کنفرم کرائی اور مجھ کو ہوائی جہاز کے اندر داخل کرکے بٹھا دیا۔ اس نے کہا کہ آپ کا پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات آپ کو پائلٹ کے ذریعہ مل جائیں گے ۔ چنانچہ دوران پرواز مجھے ایک لفافہ دیا گیا جس میں پاسپورٹ وغیرہ موجود تھے ۔ امریکہ کے لیے میرا دوسرا سفر نومبر ۱۹۸۵ میں ہوا ۔ اس سفر کی مفصل رو داد الرساله مارچ - اپریل ۱۹۸۶ میں شائع ہو چکی ہے ۔ امریکہ کا تیسرا سفر موجودہ سفر تھا جو دسمبر ۱۹۸۸ میں ہوا۔ ہوائی سفر کے اعتبار سے ہماری آخری منزل لاس اینجیلیز تھی۔ نیو یارک سے لاس اینجیلیز تک کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹہ میں طے ہوا۔ ایرپورٹ سے جائے قیام (ڈانا ہائم) تک ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کا ساتھ رہا۔ راستہ کی گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد بالکل صحیح طور پر معلوم نہیں ۔ عام اندازہ کے مطابق ۸ ملین سے ۱۰ ملین تک مسلمان امریکہ میں آباد ہیں۔ ان مسلمانوں میں عام طور پر دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ جو ایسے ملکوں سے آئے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے ۔ دوسرے، وہ لوگ جو ایسے ملکوں میں کہتے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ، اور اب وہ وہاں سے آکر امریکہ میں آباد ہوئے ہیں۔ اکثریتی ملکوں کے مسلمانوں میں دینداری نسبتاً بہت کم پائی جاتی ہے ۔ ان کے ملکوں میں دینی کام (مثلاً مسجد، مدرسہ وغیرہ) سب حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ نفسیاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page