یمن کا سفر
Urdu book, p. 469
By Maulana Wahiduddin Khan
کے راستہ سے ہوتی تو میں عین اسی جہاز میں ہوتا۔ لندن سے نیویارک جانے والے اس جہاز (فلائٹ ۱۰۳) کے ساتھ عجیب حادثہ پیش آیا۔ لندن سے روانہ ہو کر وہ فضا میں بلند ہوا اور ۳۱ ہزار فٹ کی اونچائی پر پہونچ کر ۸۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے لگا۔ جب وہ اسکاٹ لینڈ میں داخل ہوا تو اچانک اس میں دھماکہ ہوا۔ وہ وہاں کے ایک گاؤں لاکربی (Lockerbie) کے اوپر گر پڑا۔ جہاز مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس کے اوپر اس وقت ۲۵۸ مسافر تھے جو سب کے سب فوراً ہی ہلاک ہو گئے۔ امریکہ کی سرزمین پر اترنے کے بعد مجھے جو پہلی خبر ملی وہ یہی تھی ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری روٹ کو بدل دیا۔ اگر میرا سفر لندن کے راستہ سے ہوتا تو ارسالہ کے قارئین کو " سفر نامہ " کے بجائے شاید میری موت کی خبر پڑھنے کو ملتی۔ امریکہ کی سرزمین پر پہلی بار میں اپریل ۱۹۸۳ میں آیا تھا ۔ اس کی مختصر روداد الرسالہ جون ۱۹۸۳ میں چھپ چکی ہے۔ اس وقت میں ٹرانزٹ پیسنجر کے طور پر نیویارک ایرپورٹ پر اترا تھا۔ اس موقع پر ایک عجیب ناقابل فہم واقعہ پیش آیا۔ ہوائی جہاز سے اتر کر میں بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ کاؤنٹر پر کھڑا ہو گیا۔ میری باری آئی تو کلرک نے میرے پاسپورٹ پر مہر لگانے کے بجائے اس کو اپنے پاس رکھ کر مجھے ایک طرف کھڑا کر دیا۔ میں انتظار میں کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ تمام مسافر ایک کے بعد ایک چلے گیے ۔ اتنے میں ایک سیاہ فام سپاہی آیا۔ کلرک نے فوراً میرا پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا جیسے کہ وہ اسی کا انتظار کر رہا ہو۔ اب میں اس سپاہی کی تحویل میں تھا ، اور میرا پاسپورٹ اس کے قبضہ میں تھا۔ وہ مجھ کو لے کر لاؤنج میں کھڑا ہو گیا۔ اب دوبارہ ایک اور شخص کے انتظار کا مرحلہ شروع ہوا۔ کافی دیر کے بعد ایک سفید فام پولیس افسر آیا۔ سیاہ فام سپاہی نے اب میرا پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا۔ سفید فام پولیس افسر نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ میں اس کے ساتھ چلا۔ یہاں تک کہ ہم لوگ ایرپورٹ کے باہر پہونچ گیے۔ یہاں پولیس کی ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ ہم دونوں کار پر بیٹھ گیے۔ کار روانہ ہوئی اور مختلف سڑکوں سے ہوتی بالآخر ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader