یمن کا سفر
Urdu book, p. 477
By Maulana Wahiduddin Khan
سادہ اور سنجیدہ انداز میں انگریزی میں تقریر کی جس میں لقد جاءکم رسول من انفسکم (التوبہ ۱۲۸) کی تشریح بیان کی۔ انھوں نے اپنی تقریر اس جملہ پر ختم کی کہ یہاں آنے سے میرا مقصد آپ کے ساتھ شریک ہونا تھا نہ کہ آپ سے کچھ کہنا: I came here to share something with you, rather than to say something to you. کانفرنس ۲۳ - ۲۴ دسمبر ۱۹۸۸ کو تھی ۔ لوگوں کا اصرار تھا کہ یہاں مزید قیام کیا جائے اور مختلف مقامات (نیویارک ، شکاگو ، سان فرانسسکو وغیرہ) میں پروگرام رکھا جائے اور وہاں خطابات کیے جائیں۔ اگر میں ان لوگوں کی تجویز مان لیتا تو مجھے کئی مہینے تک یہاں ٹھہرنا پڑتا۔ مگر یہ میرے لیے ممکن نہ تھا ، اس لیے کانفرنس کے بعد میں صرف چند دن ٹھہر سکا اور بعض اجتماعات کو خطاب کیا۔ ۲۳ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی ۔ یہ مسجد پہلے چرچ تھی ۔ مسیحی حضرات نے اس کو فروخت کر دیا۔ چرچ کی یہ عمارت اب مسجد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں قرآن کا مختصر درس دیا۔ ۲۵ دسمبر کو نماز ظہر کے بعد دوبارہ اس مسجد میں درس حدیث کا پروگرام تھا۔ جمعہ کے دن جب میں مسجد میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ نمازی لوگ اس کے اندر متفرق طور پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر جب پہلی اذان ہوئی تو اس کے فورا بعد تمام لوگ مل جل کر صف کی صورت میں کھڑے ہو گئے ۔ جماعت سے پہلے کی سنتیں انھوں نے صف بندی کر کے پڑھیں ۔ سنتوں سے فارغ ہو کر وہ صف بہ صف بیٹھ گئے ۔ خطبہ کے بعد جب جماعت کی نماز شروع ہوئی تو ان کے اٹھتے ہی صفیں قائم ہوگئیں ، " آگے آجائیے ، آگے آجائیے “ کی پکار بلند کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ یہی طریقہ ہندوستانی مسجدوں میں بھی رائج ہو جائے تو کتنا اچھا ہو ۔ پروفیسر ایوان نے یاز بیک حداد کے حوالہ سے معارف (جنوری ۱۹۸۹) میں ایک رپورٹ (امریکہ میں مسلمان) شائع ہوئی ہے۔ اس میں درج ہے کہ : " امریکہ میں مسلمان عورتیں جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرتی ہیں۔ مگر مرد اپنی ملازمت اور کاروباری مشغولیتوں کی وجہ سے جمعہ کی نماز کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader