Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ صحافت کے میدان میں مسلمانوں کی پس ماندگی موجودہ زمانہ میں کتنے وسیع نتائج تک پہنچ رہی ہے۔ روانڈا اور یوگنڈا کی سرحد پر میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے نوٹوں کی گڈیاں ہاتھ میں لئے ہوئے گھوم رہے ہیں وہ آنے جانے والوں کے لئے نوٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔ ان بچوں کے لئے اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ کوئی ان کے نوٹ چھین کر بھاگ جائے گا۔ روانڈا ابھی صنعتی انقلاب سے دور ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ بہت سادہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی فطرت پر قائم ہیں۔ چنانچہ اسلام ان کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ روانڈا میں کلیسا کافی طاقت در ہے اور وہ اسلامی تبلیغ کا مخالف ہے۔ مگر یہاں کا موجودہ صدر جنرل ہا بیار یمانہ (Habia Remana) نہایت ہوشیار اور منصف مزاج ہے۔ اس نے کھلے طور پر اعلان کیا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر مذہب کو آزادی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں دخل دئے بغیر اپنا مذہبی کام کرے۔ کیگالی کے موجودہ اسلامی مرکز کے لئے حکومت نے کافی وسیع زمین مفت دی ہے اور اس پر چھ ملین ڈالر کے خرچ سے ایک بڑا اسلامی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ مرکز تعمیر ہونے کے بعد صدر روانڈا نے اس کا افتتاح کیا اور اپنی تقریر میں کہا کہ روانڈا میں ہم اس طرح کے اور بھی اسلامی مراکز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کے مراکز ہماری شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ملک کے اندر آزادی فکر کا نشان ہیں۔ کیگالی کے اسلامی مرکز کا خاموش تبلیغی کام تقریباً پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دو درجن داعی پیدل یا کاروں یا بائیسکلوں کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو خدا کے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ میں نے اپنے زمانہ قیام (۳۱ اگست تا ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ء) میں دیکھا کہ تقریباً روزانہ مختلف اطراف سے لوگ یہ خبریں لے کر آ رہے ہیں کہ فلاں مقام پر اتنے آدمی اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ تعداد اکائیوں میں نہیں بلکہ اکثر دہائیوں میں ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کبھی سیکڑوں میں۔ آئے دن نو مسلموں کی جماعتیں مرکز میں آتی ہیں تاکہ یہاں کچھ دن رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کریں۔ اسی کے ساتھ ہر ایک باصرار اپنا ختنہ کراتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان نو مسلموں میں تقریباً ۹۹ فیصد نوجوان ہیں۔ کام کی بڑھتی ہوئی رفتار کے لحاظ سے مرکز کے وسائل بہت کم ہیں۔ تاہم نہ صرف مرکز میں بلکہ مختلف مقامات پر نو مسلموں کی دینی تعلیم کے لئے مدارس قائم ہیں جن میں مرکز کے مقرر کردہ معلمین ان کو اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ مقامی زبان (کینیا روانڈا) میں چھوٹی چھوٹی کتابیں سادہ دینی تعلیمات کے بارے میں شائع کی گئی ہیں۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو کیگالی کے اسلامی مرکز میں میرا لکچر تھا شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور کئی ملکوں کے سفراء وسيع لکچر ہال (قاعة المحاضرات) میں موجود تھے۔ اجتماع میں تقریباً نصف تعداد مسلمانوں کی تھی اور تقریباً نصف تعداد غیر مسلموں کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page