Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں مرکز کا اسٹاف کافی وسیع ہے۔ مگر ان میں کوئی اردو جاننے والا نہیں۔ روانڈا کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ چنانچہ عملہ سرکار کی اکثریت فرانسیسی زبان جاننے والوں پر مشتمل تھی۔ میں نے اپنا لیکچر اس طرح تیار کیا کہ اولاً میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں لیکچر کو املا کرایا۔ اس کے بعد مرکز کے ڈائرکٹر جناب محمد سلیمان القائد، جو میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں، انھوں نے میری عربی کو عربوں کی زبان میں لکھا۔ اس کے بعد اس عربی لیکچر سے جناب سالم جابی (گینیا) نے اس کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔ لیکچر کی صورت یہ ہوئی کہ اولاً میں نے عربی زبان میں ابتدائی کلمات کہے جس کا فوری طور پر سالم جابی نے فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے بعد جناب ادریس بلجی (روانڈا) نے میرا لیکچر فرانسیسی میں پڑھ کر سنایا۔ لیکچر کے بعد سائیکلو اسٹائل پر تیار کی ہوئی اس کی عربی اور فرانسیسی کاپیاں لوگوں کے درمیان تقسیم کی گئیں۔ جلد ہی انشاء اللہ کیگالی کے اسلامی مرکز کی طرف سے دونوں زبانوں میں اس لیکچر کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ طرابلس کا مقالہ (القرآن فی مواجہة التحديات الحصرية) اور کیگالی کا لیکچر (دور الاسلام فی التاریخ العالمی) دونوں اصلاحی زبان میں لکھے گئے ۔ اس لئے فی الحال ان کا اردو نسخہ الرسالہ میں اشاعت کے لئے ہمارے پاس موجود نہیں ۔ اسلامی مرکز (کیگالی) کا دعوتی کام اب تک زیادہ تر عوام میں ہورہا ہے۔ مرکز کے ڈائرکٹر نے کہا: آپ کا یہ لیکچر انشاء اللہ مرکز کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اولاً ہم اس لیکچر کو فرانسیسی اور عربی اور مقامی زبان (کینیا روانڈا) میں شائع کریں گے اور اس کے بعد آپ کی دوسری چھوٹی کتابیں بھی فرانسیسی میں اور عربی میں شائع کریں گے۔ اس طرح انشاء اللہ یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ (مثقفین) میں بھی ہمارا دعوتی کام شروع ہو جائے گا۔ اس سفر میں ایک اخوانی قائد سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے میرے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا کہ اسلامی تحریک کا نشانہ دعوت ہے نہ کہ سیاست۔ ان کے نزدیک الاخوان المسلمون نے سیاسی طریق کار اختیار کر کے غلطی کی ہے۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ ان کو لاخوان المسلمون میں بدستور شامل رہنا چاہئے تاکہ وہ اندر سے اس کی اصلاح کی کوشش کر سکیں۔ میں نے کہا کہ اخوانیوں کا سیاسی طریق کار کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ ان کے فکر میں اول روز سے شامل تھا، ان کی اٹھان ہی سیاست پر ہوئی تھی۔ اور کسی تحریک کی اٹھان جس فکر پر ہوتی ہے وہ آخر تک اسی پر قائم رہتی ہے، آپ درمیان سے اسے بدل نہیں سکتے۔ تاہم انھوں نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کیا۔ بالآخر میں نے انھیں ایک تحریر لکھ کر دی اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اپنے پاس محفوظ کر لیجئے اور دو سال بعد اس کو دوبارہ کھول کر پڑھیے گا اور پھر دو سالہ تجربات کا جائزہ لے کر مجھے بتائیے گا کہ آپ کا خیال درست تھا یا میرا خیال ۔ یہ تحریر میری ہندوستانی عربی میں حسب ذیل تھی:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page