یمن کا سفر
Urdu book, p. 480
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حلقہ انتخاب میں یہودی ووٹروں کی تعداد ۷۰۸ ہے ۔ دسمبر ۱۹۸۸ میں نیو یارک میں پانچواں " مسلم ورلڈ ڈے " منایا گیا ۔ اس موقع پر روز ویلیٹ ہوٹل کے ہال (Grand Ballroom) میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر مک کلوسکی نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد یہودیوں سے زیادہ ہے ۔ اس کے باوجود یہودی یہاں کی پالیسیوں پر انداز ہوتے ہیں ، اور مسلمانوں کا یہاں کی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں ۔ اس کی وجہ خود مسلمان ہیں نہ کہ امریکی نظام ۔ امریکی مسلمان اگر اپنے ووٹوں کا بھر پور استعمال کریں تو وہ یہاں کے نظام کو بدل سکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہود نواز امریکہ کی روایتی پالیسی نہیں ۔ موجودہ یہود نواز پالیسی کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کا یہودی گروپ نہایت گہرے طور پر یہاں کے سیاسی عمل میں شریک ہے اور ہر سطح پر اس میں حصہ لیتا ہے ۔ امریکہ میں ایک اور طاقتور گروپ ہے جو تعداد میں زیادہ بڑا ہے ۔ یہ عرب ہمدردوں (مسلمانوں) کا گروپ ہے ۔ مگر وہ ہمارے سیاسی عمل میں شرکت نہیں کرتا ۔ انسانی حقوق کی پامالی کے بارہ میں آپ کے احساسات امریکی نظام میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک آپ اس مقصد کے لیے منظم نہ ہو جائیں : The reason for the pro-Israeli policy of the United States is because one group of people in this country is deeply involved in political process and participates in it at all levels: The United States has another strong group which is greater in size and that group is Arab sympathisers, (yourselves), which has not participated in our political process. Your feelings about human rights violations will not be translated into American system unless you are not organized. (The Minaret, New York, December 16, 1988) آپ کو امریکہ میں اور امریکہ کے باہر بے شمار مسلمان ملیں گے جو امریکہ کی مسلم دشمنی پر الفاظ کا دریا بہائیں گے ۔ مگر ایسا مسلمان شاید ایک بھی نہ ملے جو سنجیدہ طور پر یہ رائے رکھتا ہو کہ یہ خود اپنی عملی کوتاہی کا مسئلہ ہے نہ کہ امریکہ کی اسلام دشمنی کا ۔ امریکہ کو "مسلم دشمنی" کے مقام سے ہٹا کر مسلم نوازی اور اسلام دوستی کے مقام پر لانے کے دو یقینی راستے ہیں ۔ ایک دعوتی عمل کا راستہ ، جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔ دوسرا سیاسی عمل کا راستہ ، جس کی نشاندہی مسٹر مک کلوسکی نے کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader