Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 481

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر مسلمانوں کے اندر نہ پہلے عمل کے لیے کوئی حقیقی جذبہ ہے اور نہ دوسرے عمل کے لیے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ خود تو اپنی ساری طاقت اپنا ذاتی مستقبل بنانے میں لگائے رہیں ، اور دوسرے لوگ آکر ان کا مستقل بنا دیں ، مگر اس دنیا میں ایسا واقعہ کبھی ظاہر ہونے والا نہیں ۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں امریکہ میں رہنے والے ہندوؤں کا ذکر آیا ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ وہ لوگ تو رات دن بس ڈالر کمانے میں لگے رہتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ بھی تو یہاں یہی کر رہے ہیں ۔ دونوں میں صرف نام کا فرق ہے ۔ ہندو کے نزدیک ” ڈالر “ اگر مذہبی دیوتا ہے تو آپ کے یہاں ڈالر زندگی کا مقصد ۔ ڈاکٹر رالف سسن (Dr Ralph R. Sisson) اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں کمیونی کیشن کے پروفیسر ہیں ۔ پیدائشی طور پر وہ عیسائی ہیں اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان سے میں نے ایک ملاقات میں پوچھا کہ امریکہ میں یہودی صرف ۳ فی صد ہیں ، اس کے باوجود وہ یہاں چھائے ہوئے ہیں ۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہار ڈورک (سخت محنت) اس کے برعکس یہی سوال کسی مسلمان سے کیجیے تو بلا تامل اس کا جواب ہوگا کانپریسی (سازش) موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسری قوموں کے بارہ میں نفرت میں مبتلا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کے بارہ میں صحیح رائے قائم نہیں کر پاتے ۔ مذکورہ امریکی پروفیسر اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھا ۔ اس نے محبت اور نفرت سے اوپر اٹھ کر سوچا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحیح رائے قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان لکھنے والوں نے امریکی یہودیوں کے بارہ میں بے شمار کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن میں جوش وخروش کے ساتھ یہودی سازشوں کا انکشاف کیا جاتا ہے ۔ مگر یہ تمام تحریریں بالکل سطحی ہیں ۔ وہ اپنے قاری کو اصل حقیقت سے باخبر نہیں کرتیں ۔ امریکہ کے موجودہ سفر میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں ، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۷) نے امریکہ میں یہودیوں کی تعداد ۵۵ لاکھ بتائی ہے ۔ اس قلت تعداد کے باوجود ، انھوں نے اپنے تمام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page