یمن کا سفر
Urdu book, p. 483
By Maulana Wahiduddin Khan
پیسیفک سمندر کے کنارے واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اسلامک سوسائٹی یہیں پر ۱۹۶۲ میں قائم ہوئی۔ اپنے دستور کے مطابق یہ ایک غیر سیاسی (Non-political) ادارہ ہے۔ اس میں برابر ترقی ہوتی رہی۔ اب وہ پانچ ایکڑ سے زیادہ بڑے رقبہ میں قائم ہے۔ اس کے اندر مسجد، کانفرنس روم ، لائبریری ، اسکول ، وغیرہ واقع ہیں ۔ اس سوسائٹی کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی ہیں ۔ سوسائٹی کی ہر چیز امریکی معیار کے مطابق ہے۔ اس کے اسکول کو دیکھتے ہوئے ہم ایک بند دروازہ پر پہونچے۔ معلوم ہوا کہ اس کے اندر لفٹ لگی ہوئی ہے۔ اس لفٹ پر سوسائٹی کو ۴ ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑا۔ یہاں کا قانون یہ ہے کہ ہر اسکول جو گراؤنڈ سے اوپر ہو، خواہ وہ صرف ایک منزل ہو، اس میں لفٹ (Elevator) لگانا ضروری ہے، تاکہ معذور طالب علموں کو اوپر چڑھنے میں کوئی مشکل نہ پیش آئے۔ امریکہ میں معذوروں (Handicapped) کا ہر سطح پر بے حد خیال کیا جاتا ہے۔ ہر جگہ انھیں خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ یہ صرف لفظی قانون نہیں ہے ، بلکہ اس پر باقاعدہ عمل ہوتا ہے۔ سوسائٹی کا اسکول اس وقت تک منظور نہیں کیا گیا جب تک اس نے لفٹ نہ لگالی ۔ اب بھی اس کا جدید ترین طرز کا ” کیپٹن “ غیر منظور شدہ ہے ، کیوں کہ اس کے طعام خانہ کے دروازہ پر چوکھٹ لگی ہوئی ہے جو معذوروں کی پہیہ دار گاڑی کے بآسانی گزرنے میں رکاوٹ ہے۔ واضح ہو کہ فی الحال سوسائٹی کے اسکول میں کوئی معذور طالب علم موجود نہیں۔ اسلامک سوسائٹی میں مسلم بچوں کے لیے ایک اسکول قائم ہے۔ یہ اسکول بھی جدید معیار کے مطابق ہے۔ ایک اجلاس میں بچوں نے عربی اور انگریزی میں تقریریں کیں۔ اس طرح کے پروگرام ہندوستان میں بھی مکاتب و مدارس میں کیے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بچوں نے جس طرح تقریریں کیں ، ان کا معیار ہندستانی طلبہ سے بہتر نظر آیا ۔ حسان صدیقی (اا سال) نے عربی میں تقریر کی۔ یہ تقریر بالکل عرب لہجہ میں تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی عرب بچہ بول رہا ہے ۔ اسلامک سوسائٹی کی طرف سے ایک ماہانہ میگزین بھی نکلتا ہے جس کا نام آریج کریسنٹ (The Orange Crescent) ہے۔ امریکہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہاں ہر چیز کا ایک اسٹینڈرڈ قائم ہو گیا ہے ۔ ملک کے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader