Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 482

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے ۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں ۔ اپنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں ۔ ان میں انفرادی سطح پر اختلافات ہیں ، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں ۔ وہ اربابِ کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں نہ کہ اس طرح منفرد انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے ۔ امریکی مسلمانوں کی مجموعی تعداد ۸ سے ۱۰ ملین تک ہے ۔ جب کہ یہودیوں کی موجودہ تعداد زیادہ سے زیادہ ۶ ملین قرار دی جاسکتی ہے ۔ مگر مسلمان ہر معاملہ میں یہودیوں کے بالکل برعکس ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی ملک گیر تنظیم نہیں ۔ ان کے بے شمار ادارے ہیں ، مگر سب کے سب آزاد ادارہ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ ان کے ووٹ یہودیوں سے زیادہ ہیں مگر سیاسی بے شعوری کی بنا پر اب تک وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال نہ کرسکے ۔ امریکی مسلمانوں کا نقطۂ نظر ایک لفظ میں یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈالر کماؤ، اور بقیہ ہر چیز سے غیر متعلق رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کا متحد اور منظم ہونا ان کی اصل طاقت ہے ، اور امریکی مسلمانوں کا غیر متحد اور غیر منظم ہونا ان کی اصل کمزوری ۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ امریکی زندگی کی الف ب بھی نہیں جانتے ۔ آخری اجتماع (۲۴ دسمبر) میں اسلامک سوسائٹی (گارڈن گروو) کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی ۔ لوگوں نے ڈالر کی صورت میں اپنے عطیات دینے شروع کیے ۔ اسٹیج کے پاس ایک بلیک بورڈ رکھا ہوا تھا۔ اس پر جلی حروف میں مسلسل رقم کی مقدار لکھی جارہی تھی ۔ ایک ہزار ڈالر، ۲۰۰ ہزار ڈالر، ۳۵ ہزار ڈالر، اس طرح گنتی بڑھتے بڑھتے تقریباً ۹۰ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ۔ پورا مجمع بیک وقت بلیک بورڈ پر عطیات کی مقدار دیکھ رہا تھا۔ یہ گویا چندہ کے قدیم طریقہ کو ماڈرنائز کرنا ہے ۔ مجھے یہ طریقہ پسند آیا۔ گارڈن گروو (Garden Grove) امریکہ کا ایک شہر ہے جو لاس اینجلس کے قریب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page